کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 437
سورۃ اللھب: بغیر اختلاف مکی سورت ہے اور اس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ سورۃ الإخلاص: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ،حسن،عطا،عکرمہ اور جابر رحمہ اللہ علیہم کے نزدیک مکی سورت ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک قول پر اور قتادہ،ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم کے نزدیک مدنی ہے۔[1] اس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ سورۃ الفلق: حسن و عکرمہ اور جابر و عطا رحمہ اللہ علیہم کے قول میں یہ مکی سورت ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک قول میں اور قتادہ رحمہ اللہ کے نزدیک مدنی ہے۔[2] اس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ سورۃ الناس: سورۃالفلق کے مانند ہی اس کے مکی و مدنی ہونے میں اختلاف ہے اور اس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ احمد و بزار اور طبرانی و ابن مردویہ رحمہ اللہ علیہم نے بہ طریق صحیح،جیسا کہ سیوطی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے،سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ مصحف سے معوذتین کو مٹاتے اور فرماتے تھے کہ قرآن میں اسے آمیز نہ کرو،جو قرآن میں سے نہیں ہے۔یہ دو سورتیں کتاب اﷲ سے اس کے سوا نہیں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ذریعے تعوذ کا حکم دیا اور وہ یہ دو سورتیں نہیں پڑھتے تھے۔بزار رحمہ اللہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے اس معاملے میں ان کی پیروی نہیں کی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں کی قراء ت نماز میں صحیح ہے اور انھیں مصحف میں ثابت رکھا گیا ہے۔[3] امام احمد،امام بخاری اور امام نسائی رحمہ اللہ علیہم وغیر ہ نے زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ مدینے میں آئے اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا کہ اے ابو منذر! میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ [1] فتح القدیر (۵/ ۶۹۴) [2] فتح القدیر (۵/ ۷۰۱) [3] الإتقان (۱/ ۲۱۳)