کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 435
سورۃ القارعۃ: بغیر اختلاف مکی سورت ہے،اسے ابن مردویہ رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔[1] اس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ سورۃ التکاثر: سب کے نزدیک مکی سورت ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیاہے کہ مدنی سورت ہے۔[2] اس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ سورۃ العصر: جمہور کے نزدیک مکی سورت ہے اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ مدنی ہے۔[3] اس میں ایک آیت: ﴿اِِنَّ الْاِِنْسَانَ لَفِیْ خُسْر﴾ [العصر: ۲] [کہ بے شک ہر انسان یقینا گھاٹے میں ہے]منسوخ ہے،اس کا ناسخ اﷲ کا ارشاد: ﴿اِِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ،الخ﴾ [العصر: ۳] [سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے]ہے۔حقیقت میں یہ نسخ نہیں،بلکہ عموم سے استثنا ہے،لہٰذا یہ عام کی تخصیص کے باب سے ہے اور خاص عام کا ناسخ نہیں ہوتا،جیسا کہ اصول سے ثابت ہے۔ سورۃ الہمزۃ: بغیر اختلاف یہ مکی سورت ہے اور اس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ سورت قریش: جمہور کے نزدیک یہ مکی سورت ہے اور ضحاک و کلبی رحمہما اللہ نے کہا کہ مدنی ہے۔[4] اس میں کوئی آیت ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ سورۃ الماعون: عطا اور جابر رحمہما اللہ کے قول میں اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک قول میں یہ سورت مکی ہے، [1] فتح القدیر (۵/ ۶۵۳) [2] فتح القدیر (۵/ ۶۵۶) [3] فتح القدیر (۵/ ۶۶۱) [4] فتح القدیر (۵/ ۶۶۹)