کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 430
دوسری آیت: ﴿ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلاَ تُطِعْ مِنْھُمْ اٰثِمًا اَوْ کَفُوْرًا﴾ [الإنسان: ۲۴] [پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور ان میں سے کسی گناہ گار یا بہت ناشکرے کا کہنا مت مان] کہتے ہیں کہ یہ آیتِ سیف سے منسوخ ہے،لیکن صحیح اس کا عدمِ نسخ ہے،کیونکہ اس میں حکم سے مقصود اجل معین تک نصرت کی تاخیر میں قضاے خداوندی پر رضا ہے اور اس میں کافروں کی موافقت سے اپنے کلام ﴿لَا تُطِعْ﴾ سے نہی کی گئی ہے۔ تیسری آیت: ﴿فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا﴾ [الإنسان: ۲۹] [تو جو چاہے اپنے رب کی طرف (جانے والا) راستہ اختیار کر لے] کہتے ہیں کہ یہ آیتِ سیف سے منسوخ ہے،لیکن اس میں مفہومِ مخالف مراد نہیں لیا گیا ہے کہ اس کا نسخ صحیح ہو،جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔ سورۃ المرسلٰت: حسن،عکرمہ،عطا اور جابر رحمہ اللہ علیہم کے نزدیک یہ سورت مکی ہے اورسیدنا قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ایک آیت مدنی ہے اور وہ اﷲ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِِذَا قِیْلَ لَھُمُ ارْکَعُوْا لاَ یَرْکَعُوْن﴾ [المرسلٰت: ۴۸] [اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جھک جاؤ تو وہ نہیں جھکتے] [1] اس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ سورۃ النبأ: سب کے نزدیک یہ مکی سورت ہے۔اس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ سورۃ النازعات: بغیر اختلاف مکی سورت ہے اور اس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ [1] فتح القدیر (۵/ ۴۷۱)