کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 429
جب کہ اصح یہ ہے کہ اس میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔آیت مذکورہ کا معنی یہ ہے کہ وحی کے القا کے وقت اسے اخذ کرنے میں جلدی نہ کر،کیونکہ اس کی قراء ت کو تیری زبان پر ثابت کرنا ہماری ذمے داری ہے،لہٰذا اس آیت کا معنی آیت ﴿سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰٓی﴾ [الأعلیٰ: ۶] [ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تو نہیں بھولے گا] کے موافق ہوگا۔اسی لیے اکثر اہلِ علم نے نسخ کے باب میں اس سے تعرض نہیں کیا ہے اور ایسے ہی اﷲ کا یہ ارشاد ہے: ﴿وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہ﴾ [طٰہٰ: ۱۱۴] [اور قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر،اس سے پہلے کہ تیری طرف اس کی وحی پوری کی جائے] سورۃ الإنسان: جمہور کہتے ہیں کہ یہ سورت مدنی ہے اور مقاتل و کلبی نے فرمایا ہے کہ مکی ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اﷲ کے ارشاد: ﴿اِِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلاً﴾ [الإنسان: ۲۳] [یقینا ہم نے ہی تجھ پر یہ قرآن اتارا،تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا] سے آخر تک مکی ہے اور اس کے ماقبل مدنی ہے۔[1] اس میں تین آیات منسوخ ہیں۔ پہلی آیت: ﴿وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا﴾ [الإنسان: ۸] [اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدی کو] کہتے ہیں کہ یہ آیتِ سیف سے منسوخ ہے۔یہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے،یعنی یہ کافر اسیر کو کھاناکھلانا آیتِ سیف سے یا آیتِ صدقات سے نسخ پذیر ہوگیا۔سعید رحمہ اللہ کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ آیت محکم ہے اور یتیم و مسکین کو کھلانا نفل ہے اور اسیر کو کھانا کھلانا اس کی جان کی حفاظت کے لیے ہے،یہاں تک کہ امام اس کے بارے میں کوئی رائے اختیار کرے اور یہی راجح ہے۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ اس آیت کا نزول سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہوا ہے۔[2] (أخرجہ ابن مردویہ) [1] فتح القدیر (۵/ ۴۵۶) [2] فتح القدیر (۵/ ۴۶۲۔۴۶۳)