کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 419
ہیں،کہ اﷲ نے فے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقرر کیا ہے اور آیتِ اولیٰ کا مقتضا اس کا بغیر قتال کے حاصل ہونا ہے اور آیتِ ثانیہ کا مقتضا اس کا قتال سے حاصل ہونا ہے۔ 3۔﴿مَآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی﴾ [الحشر: ۷] [جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں سے اپنے رسول پر لوٹایا ] قتال یا بغیر قتال کے حصول کے ذکر سے خالی ہے۔اختلاف یہیں سے پیدا ہوتا ہے۔ایک گروہ نے کہا ہے کہ یہ پہلی آیت کے ساتھ ملحق ہے،جو صلح کا مال ہو۔ایک گروہ نے کہا ہے کہ تیسری سے ملحق ہے،جو آیتِ انفال ہوگی۔جو آیتِ انفال سے ملحق قرار دیتے ہیں وہ اختلاف کرتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے یا محکم۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس سورت کی پہلی آیت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے اوردوسری آیت بنو قریظہ کے بارے میں ہے،یعنی اس کا معنی آیتِ انفال کی طرف لوٹ رہاہے۔امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ فے کے خمس کا طریقہ وہی ہے،جو مالِ غنیمت کے خمس کا طریقہ ہے،خمس کا چوتھائی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کے مفادات کے لیے ہو گا۔[1] سورۃ الممتحنۃ: امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ سورت سب کے نزدیک مدنی ہے۔[2] اس میں تین آیتیں منسوخ ہیں۔ پہلی آیت: ﴿لَایَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْا اِِلَیْھِم﴾ [الممتحنۃ: ۸] [اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو] کہتے ہیں کہ یہ آیتِ قتال سے منسوخ ہے۔امام شوکانی رحمہ اللہ نے’’فتح القدیر‘‘ میں فرمایا [1] فتح القدیر (۵/ ۲۶۲۔۲۶۳) [2] فتح القدیر (۵/ ۲۷۹)