کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 418
نے’’الفوزالکبیر‘‘ میں فرمایا ہے کہ یہ آیت اپنے مابعد کی آیت سے منسوخ ہے،میں نے کہا کہ ایسے ہی ہے جیسے انھوں نے فرمایا ہے۔[1] انتھیٰ۔ سورۃ الحشر: امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ سورت سب کے نزدیک مدنی ہے۔[2] اس میں کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔ہاں ایک آیت اس میں ناسخ ہے اور وہ اﷲ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿مَآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِیْ الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْل﴾ [الحشر: ۷] [جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں سے اپنے رسول پر لوٹایا تو وہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے] کیونکہ اس میں فے کے مصارف کا اس کے بعد بیان ہے کہ فے اﷲ اور رسول کے لیے خاص ہے،لہٰذا اﷲ کا ارشاد: ﴿یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ﴾ [الأنفال: ۱] [وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ] اس کے آخر تک منسوخ ہوگا۔’’فتح القدیر‘‘ میں فرمایا ہے کہ اہلِ علم اس آیت اور اس سے پہلے کی آیت کے بارے میں کلام کرتے ہیں کہ دونوں متفق ہیں یا مختلف؟ کچھ نے متفق کہا اور کچھ نے مختلف اور اس میں طویل کلام ہے۔ابن العربی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی اشکال نہیں ہے،کیونکہ یہاں تین آیات میں تین معانی ہیں : 1۔﴿وَمَآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْھُمْ﴾ [الحشر: ۶] [اور جو (مال) اللہ نے ان سے اپنے رسول پر لوٹایا] ہے،یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے اور اس سے مراد بنو نضیر کے اموال ہیں اور جو بھی اس کے مثل ہو۔ 2۔﴿مَآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی﴾ [الحشر: ۷] [جو کچھ بھی اللہ نے ان بستیوں والوں سے اپنے رسول پر لوٹایا ] یہ پہلی آیت کے سوا ابتدائی کلام ہے،اول کے سوا سزاوار کے لیے،اگر چہ یہ آیت اور آیت اولیٰ اس بات میں مشترک ہیں کہ دونوں اسی چیز کو متضمن [1] الفوز الکبیر (ص: ۵۹) [2] فتح القدیر (۵/ ۲۵۸)