کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 417
منسوخ ہے۔درست یہ ہے کہ اس کا ناسخ اﷲ تعالیٰ کا یہ ارشاد: ﴿فَاِِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَحِیْم﴾ [المجادلۃ: ۱۲] [پھر اگر نہ پاؤ تو یقینا اللہ بے حد بخشنے والا نہایت مہربان ہے] ہے۔ اس کے سببِ نزول کے بارے میں کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک قوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تخلیہ کرتی تھی تو ان کی دوسری جماعت نے سمجھا کہ اس خلوت میں ہماری تنقیص کرتے ہیں،تو تخلیہ و سرگوشی سے پہلے صدقے کا حکم صادر ہوا اور اس تدبیر سے ان کے تخلیہ طلب کرنے کی بندش کی صورت ہوئی۔بعض نے کہا ہے کہ اہلِ نجویٰ یہود اور منافقین تھے اور عادت شریف ایسی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو بات اور مشورے سے نہیں روکتے تھے۔مسلمانو ں پر یہ بات دشوار ہوئی اور صدقہ کرنے کی آیت اتری۔اہلِ باطل نجویٰ سے پہلے صدقہ نہیں کرسکتے تھے اور مسلما ن بھی اس سے باز رہے،تو اﷲ تعالیٰ نے ان سے تخفیف کردی۔’’فتح القدیر‘‘ میں فرمایا ہے کہ اسی آیت سے فعل کے ہونے سے پہلے نسخ کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔یہ استدلال صحیح نہیں ہے،کیونکہ فعل ہونے کے بعد ہی نسخ ہوا ہے،چنانچہ بعض نے اس پر عمل کیا تھا۔[1]انتھیٰ۔ میں کہتاہوں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز آپ رضی اللہ عنہ نے خطبے میں فرمایا: قرآن میں ایک سورت ہے اور اس سورت میں ایک آیت ہے،جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ اس پر کوئی میرے بعد قیامت تک عمل کرے گا۔لوگوں نے سوال کیا کہ وہ کون سی آیت ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: یہ آیت ﴿ ٰٓیاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِِذَا نَاجَیْتُمْ الرَّسُوْلَ… الخ﴾ ہے۔ظاہر یہ ہے کہ آیت میں حکم ندب کے لیے تھا نہ کہ وجوب کے لیے۔مقاتل بن حیان رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حکم دس راتوں تک باقی رہا،اس کے بعد منسوخ ہوگیا۔کلبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ایک رات اور قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دن کی ایک ساعت۔یہیں سے ظاہرہوتا ہے کہ جو رسائلِ زیارتِ مدینہ علے صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں لکھا ہوا ہے کہ زائر مزار مبارک پر پہنچنے سے پہلے صدقہ دے اور حیاتِ انبیا کی بنیاد پر اس آیت سے تمسک کیا ہے،اعتبار سے گرا ہوا ہے،کیونکہ یہ آیت منسوخ ہے۔[2] شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ [1] فتح القدیر (۵/ ۲۵۱۔۲۵۲) [2] فتح القدیر (۵/ ۲۵۳۔۲۵۴)