کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 408
سورۃ الدخان: امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ سورت بالاتفاق مکی ہے،سوائے اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿اِِنَّا کَاشِفُوْا الْعَذَابِ قَلِیْلًا﴾ [الدخان: ۱۵] [بے شک ہم یہ عذاب تھوڑی دیر کے لیے دور کرنے والے ہیں ] کے۔[1] اس سورت میں ایک آیت منسوخ ہے اور وہ یہ ہے: ﴿فَارْتَقِبْ اِِنَّھُمْ مُّرْتَقِبُوْن﴾ [الدخان: ۵۹] [پس انتظار کر،بے شک وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں ] اس کی ناسخ آیتِ سیف ہے۔یہ بھی کہتے ہیں کہ محکم ہے۔معنی یہ ہے کہ اس وعدے کا انتظار کرو،جو ہم نے ان پر فتح و نصرت اور آپ کے ہاتھوں ان کی ہلاکت کا کیا ہے،کیو نکہ یہ بھی آپ کی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔نیز کہتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ انتظار کرو کہ تمہارے اور ان کے درمیان اﷲ کیا فیصلہ کرتا ہے،کیونکہ یہ بھی آپ پر حوادثِ زمانہ کا انتظار کررہے ہیں۔دونوں معانی ہی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ سورۃ الجاثیۃ: امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ پوری سورت سب کے نزدیک مکی ہے۔[2] اس میں صرف ایک آیت منسوخ ہے اور وہ یہ ہے: ﴿قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہ﴾ [الجاثیۃ: ۱۴] [ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں کہہ دے کہ وہ ان لوگوں کو معاف کر دیں،جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے] کہتے ہیں کہ اس کی ناسخ آیتِ سیف ہے۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ مشرکین کی ایذا رسانی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اعراض کر رہے تھے اور وہ آپ کی تکذیب اور استہزا کرتے تھے،تو اﷲتعالیٰ نے اپنے رسول کو ان سے قتال کا حکم دیا،گویا یہ حکم نسخ پذیر ہوگیا۔یہ ان سے ابن جریر،ابن المنذر اور ابن مردویہ رحمہ اللہ علیہم نے روایت کیا ہے۔[3] [1] فتح القدیر (۴/ ۷۴۳) [2] فتح القدیر (۴/ ۵) [3] تفسیر الطبري (۱۱/ ۲۵۶)