کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 403
صبر کر،یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے] ہے۔اس کی ناسخ آیتِ سیف ہے۔یہ کلبی رحمہ اللہ نے کہا ہے،لیکن یہ اس وقت درست ہوگا،جب صبر ترکِ قتال کے معنی میں ہو،حالانکہ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی ایذا رسانی پر ان کی مدد کرنے کے ذریعے دلاسا دینا مقصود ہے،لہٰذا یہ آیت محکم ہوگی۔ سورت فصّلت: اس کا نام’’حٰم السجدۃ‘‘ بھی رکھتے ہیں۔امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ سورت سب کے نزدیک مکی ہے۔[1] یہ سورت پوری کی پوری محکم ہے،سوائے ایک حکم کے اور وہ ﴿اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ﴾ [فصّلت: ۳۴] [(برائی) کو اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے] ہے،اس کی ناسخ آیتِ سیف ہے۔اس جیسی آیات کے بارے میں کلام گزر چکا ہے۔ سورۃ الشوریٰ: حسن،عکرمہ،عطا اور جابر رحمہ اللہ علیہم کے نزدیک پوری سورت مکی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما و قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مگر چار آیتیں جو مدینے میں اتریں اور وہ: ﴿قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی﴾ اس کے آخر تک ہے۔[2] اس میں پانچ یا نو آیات منسوخ ہیں۔ پہلی آیت: ﴿یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْض﴾ [الشوریٰ: ۵] [اور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہی جو زمین میں ہیں ] یہ آیت اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ [الشوریٰ: ۳۶] [ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے] سے منسوخ ہے۔درحقیقت یہ تخصیص کے باب سے ہے،نہ کہ تنسیخ سے۔ دوسری آیت: ﴿وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَولِیَآئَ اللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْھِمْ،الخ﴾ [الشوریٰ: ۶] [اور وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا کوئی اور کارساز بنا لیے اللہ ان پر نگران ہے] یہ آیت،آیتِ سیف سے منسوخ ہے،اس جیسی آیات کے بارے میں کلام پہلے گزر چکا ہے۔ [1] فتح القدیر (۴/ ۶۶۱) [2] فتح القدیر (۴/ ۶۸۷)