کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 393
[ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال] اس کی ناسخ آیتِ سیف ہے۔یہ زجاج رحمہ اللہ نے کہا ہے۔لیکن اکثر اہلِ علم کے نزدیک محکم ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ کفر کا ضرر تم کو ہوگا،ہم کونہیں اور ایمان کافائدہ ہم کو ہوگا،تم کو نہیں۔ سورۃ العنکبوت: اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔سیدنا ابن عباس،ابن زبیر رضی اللہ عنہم اور حسن،عکرمہ،عطا اور جابر بن زید رحمہ اللہ علیہم نے کہا ہے کہ پوری سورت مکی ہے۔سیدنا قتادہ رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم نے ایک روایت میں فرمایا ہے کہ پوری سورت مدنی ہے۔سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ مکے اور مدینے کے درمیان اتری ہے۔[1] بعض اہلِ علم کی رائے میں اس میں ایک حکم منسوخ ہے اور وہ اﷲ کا ارشاد: ﴿وَ لَا تُجَادِلُوْٓا اَھْلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ﴾ [العنکبوت: ۴۶] [اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو،مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو] ہے اور اس کی ناسخ آیتِ سیف ہے۔یہ قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ نے فرمایا ہے۔نحاس رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جو اس کے نسخ کاقائل ہے،وہ اس سے استدلال کرتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور اس وقت قتال فرض ہوا تھا نہ طلبِ جزیہ اور نہ کچھ اور فرض تھا۔[2] انتھیٰ۔ اکثر اہلِ علم کے نزدیک یہ آیت محکم ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ان سے مجادلہ نہ کرو،جو یہود و نصاریٰ میں سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں،جیسے عبداﷲ بن سلام،مگر اچھے انداز سے،یعنی جو اہلِ کتاب کی خبریں وہ تم سے بیان کریں،اس میں موافقت کرو۔آیت﴿اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا﴾ کا معنی اس صورت میں یہ ہے کہ جو اپنے کفر پر برقرارہیں،یا معنی یہ ہے کہ انھیں اسلام کی دعوت دینے میں ان سے بہتر طریقے سے مجادلہ کرو،انھیں دلائل و براہین سے آگاہ کرو اور تشدد اور سختی نہ کرو،مگر ان کے ساتھ جو ظلم کرتے ہوں اور مسلمانوں کے ساتھ ادب کا طریقہ نہ اپناتے ہوں،تو ان سے سختی کے ساتھ مجادلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اکثر مفسرین اس کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔ سورۃ الروم: کسی اختلاف کے بغیر یہ سورت مکی ہے۔یہ امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔[3] اس میں ایک حکم [1] فتح القدیر (۴/ ۲۵۲) [2] فتح القدیر (۴/ ۲۷۰) [3] فتح القدیر (۴/ ۲۸۱)