کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 392
نافرمان مسلمانوں کے لیے خلودِ نار کا حکم کیا گیا تھا۔اس کے بعد اس سے تائبین کا استثنا کردیا تو حکم اول منسوخ ہوگیا،لیکن درحقیقت یہ مخصوص ہوگیا،منسوخ نہیں۔ سورۃ الشعراء: جمہور کے نزدیک یہ سورت مکی ہے۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ اس کے آخر کی چار آیتیں مدینے میں اتریں اور وہ ﴿وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاؤن،الخ﴾ [الشعراء: ۲۲۴] [اور شاعر لوگ،ان کے پیچھے گمراہ لوگ لگتے ہیں ] ہیں۔[1] اس سورت میں ناسخ و منسوخ کوئی آیت نہیں ہے،بلکہ پوری سورت محکم ہے۔ہاں بعض کے نزدیک ایک آیت ﴿وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاؤن﴾ [الشعراء: ۲۲۴] [اور شاعر لوگ،ان کے پیچھے گمراہ لوگ لگتے ہیں ] منسوخ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اس ارشاد: ﴿اِِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ﴾ [الشعراء: ۲۲۷] [مگر وہ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے] سے منسوخ ہے،لیکن حقیقت میں استثنا کی وجہ سے مخصوص ہے،منسوخ نہیں۔ سورۃ النمل: امام قرطبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ سب کے نزدیک یہ سورت مکی ہے۔[2] یہ ساری سورت محکم ہے۔لیکن بعض کے نزدیک اس میں ایک آیت منسوخ ہے اور وہ اﷲ کا ارشاد: ﴿اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْن﴾ [النمل: ۹۲] [میں تو بس ڈرانے والوں میں سے ہوں ] ہے،یعنی میرا فرض صرف انذار ہے،جو’’إعلام مع التخویف‘‘ [ڈراتے ہوئے آگاہ کر دینا] ہوتا ہے۔وہ آیتِ سیف سے منسوخ ہے۔اس کے باوجود نظمِ آیت غیر منسوخ ہے،کیونکہ آپ بے شک منذر و مبشر ہیں۔ سورۃ القصص: حسن،عکرمہ اور عطا رحمہ اللہ علیہم کے نزدیک پوری سورت مکی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مکے اور مدینے کے درمیان اتری۔ابن سلام رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ہجرت کے وقت’’جحفہ‘‘ میں اتری۔[3]اس میں ایک حکم منسوخ ہے اور وہ یہ ہے: ﴿لَنَآ اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ﴾ [القصص: ۵۵] [1] فتح القدیر (۴/ ۱۲۴) [2] فتح القدیر (۴/ ۱۶۵) [3] فتح القدیر (۴/ ۲۰۸)