کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 387
قائلین میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ،ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عکرمہ رحمہ اللہ ہیں۔ 2۔یہ آیت خاص زنا کے بارے میں اتری ہے،لہٰذا اسی کے ساتھ خاص ہوگی،جیسا کہ خطابی نے فرمایا ہے۔ 3۔مسلمانوں میں سے ایک شخص کے بارے میں اتری ہے،اس لیے اسی کے ساتھ خاص ہوگی۔ 4۔یہ اہلِ صفہ کے بارے میں اتری ہے اور انھیں کے ساتھ مخصوص ہے،یہ ابوصالح رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔ 5۔زانی اور زانیہ سے مقصود حد کی سزا پانے والے ہیں،اسے زجاج رحمہ اللہ وغیرہ نے حسن رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ اﷲ کا حکم ہے کہ حد کی سزا پانے والا زانی حد کی سزا پانے والی زانیہ ہی سے شادی کرے اور اسی کے مثل ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے۔بعض اصحابِ شافعی اسی کے قائل ہیں۔لیکن ابن العربی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ معنی نظراً صحیح نہیں ہے،جیسے کہ نقلاً بھی ثابت نہیں ہے۔ 6۔یہ آیت،آیت ﴿اَیَامٰی﴾ سے منسوخ ہے۔نحاس رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اسی قول پر اکثر علما ہیں۔ 7۔یہ حکم غالب کی بنیاد پر ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ زیادہ تر زانی زانیہ ہی سے شادی کرنے کی رغبت رکھتے ہیں اور زیادہ تر زانیہ عورتیں زانی ہی سے شادی کرنے کی رغبت رکھتی ہیں اور اس سے مقصود مومنوں کو زناسے زجر کرنے کے بعد زانیہ سے شادی کرنے پر زجر کرنا ہے اور سببِ نزول بھی اسی کا شاہد ہے۔اسی عورت سے شادی کرنے پر جس سے زنا کیا ہو،علما نے اختلاف کیا ہے۔شافعی اور ابو حنیفہ رحمہما اللہ اسے جائز کہتے ہیں۔یہی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔عمر،ابن مسعود اور جابر رضی اللہ عنہم سے عدمِ جواز روایت کیا گیا ہے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ دونوں ہمیشہ زانی ہیں۔امام مالک رحمہ اللہ اسی کے قائل ہیں۔﴿حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْن﴾ کا معنی ان کے نزدیک یہ ہے کہ زانیہ سے شادی ناجائز ہے،کیونکہ اس میں فاسقوں سے تشبہ،الزام کا نشانہ اور نسب میں طعن ہے۔یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف مکروہ ہے اوراس کی تعبیر تحریم سے مبالغہ اورزجر کے لیے ہے۔[1] انتھٰی کلام الشوکاني رحمہ اللّٰه۔ ہم نے اس مسئلے کے متعلق’’مسک الختام شرح بلوغ المرام ‘‘ اور تفسیر آیاتِ احکام (نیل المرام) میں تفصیل سے کلام کیا ہے،لہٰذا انھیں دیکھو۔[2] [1] فتح القدیر (۴/ ۷۔۸) [2] مسک الختام (۲/ ۱۶۴) نیل المرام (ص: ۳۸۶)