کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 382
ان کی سرزنش و عداوت اور بد زبانی و ایذا رسانی پر صبر ہو تو یہ آیت محکم ہوگی اور یہی درست ہے۔امام شوکانی رحمہ اللہ نے’’فتح القدیر‘‘ میں فرمایا ہے کہ اس آیت میں ان کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحر و کذاب وغیرہ کہنے جیسے باطل طعنوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔[1] سورۃ الأنبیاء: سب کے نزدیک یہ مکی سورت ہے۔یہ امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔[2] اس میں بعض کے نزدیک ایک یا دو آیات منسوخ ہیں۔ پہلی آیت: ﴿اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ اَنْتُمْ لَھَا وٰرِدُوْن﴾ [الأنبیاء: ۹۸] [بے شک تم اور جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو،جہنم کا ایندھن ہیں،تم اسی میں داخل ہونے والے ہو] کہتے ہیں کہ یہ آیت اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓی اُولٰٓئِکَ عَنْھَامُبْعَدُوْنَ﴾ [الأنبیاء: ۱۰۱] [بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے بھلائی طے ہو چکی،وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے] سے منسوخ ہے۔لیکن در حقیقت یہ تخصیص کے باب سے ہے،تنسیخ سے نہیں۔ دوسری آیت: ﴿فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُکُمْ عَلٰی سَوَآئٍ وَ اِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْن﴾ [الأنبیاء: ۱۰۹] [پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دے میں نے تمھیں اس طرح خبردار کر دیا ہے کہ (ہم تم) برابر ہیں اور میں نہیں جانتا آیا قریب ہے یا دور،جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو] کہتے ہیں کہ یہ آیتِ قتال سے منسوخ ہے،یعنی پہلی آیت میں فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ تم سے محاربے کے بارے میں مجھے کیا حکم دیا جائے گا؟ پھر آیتِ سیف نے اس کا نسخ کر دیا۔لیکن اکثر [1] فتح القدیر (۳/ ۵۳۸۔۵۳۹) [2] فتح القدیر (۳/ ۵۴۳)