کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 374
والے ہیں ] اس کا نسخ بھی آیتِ سیف سے ہے،جیسا کہ پہلے آیا ہے۔چونکہ یہ آیات کتاب عزیز میں مکرر وارد ہوئی ہیں،لہٰذا انھیں نسخ کے باب میں الگ سے شمار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔و اللّٰہ أعلم۔ سورت یوسف: سورت یوسف کی سبھی آیات مکی ہیں۔کہتے ہیں کہ ہجرت کے وقت مکے اور مدینے کے درمیان یہ سورت اتری۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ چار آیتوں کے سوا مکی ہے۔[1] اس میں ناسخ و منسوخ آیات نہیں ہیں۔ سورۃ الرعد: اس میں اختلاف ہے کہ یہ سورت مکی ہے یا مدنی۔سعید بن جبیر،حسن،عکرمہ،عطا اور جابر بن زید رحمہ اللہ علیہم اسے مکی کہتے ہیں اور ابن زبیر،کلبی اور مقاتل رحمہ اللہ علیہم اسے مدنی کہتے ہیں۔تیسراقول یہ ہے کہ دو آیات کے سوا یہ سورت مکی ہے۔اس میں دو آیات منسوخ ہیں : پہلی آیت: ﴿اِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلْمِھِم﴾ [الرعد: ۶] [اور بے شک تیرا رب یقینا لوگوں کے لیے ان کے ظلم کے باوجود بڑی بخشش والا ہے] کہتے ہیں کہ یہ آیت اس آیت: ﴿اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہ﴾ [النساء: ۴۸] [بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے] سے منسوخ ہے۔یہ ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا ہے اور یہ اس صورت میں ہے،جب ظلم یہاں کفر و شرک کے معنی میں ہو،جیسا کہ اﷲ کا ارشاد ہے: ﴿اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْم﴾ [لقمان: ۱۳] [بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے] اکثر اہلِ علم کے نزدیک بمعنی معصیت ہے۔مومن عاصی کی مغفرت اہلِ سنت و جماعت کا مذہب ہے اور اس صورت میں یہ آیت محکم ہوگی منسوخ نہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں عظیم بشارت اور بڑی امید ہے،کیونکہ انسان ظلم سے اشتغال کے وقت تائب نہیں ہوتا۔لہٰذا کہتے ہیں کہ یہ آیت خصوصیت سے نافرما ن موحدین کے بارے میں ہے یا یہاں مغفرت آخرت تک عذاب کی تاخیر کے معنی میں ہے،تاکہ یہ اﷲ تعالیٰ کی [1] فتح القدیر (۳/ ۵)