کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 372
شَک﴾ سے اس کے آخر تک ہیں۔ایسے ہی امام قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔پھر مقاتل رحمہ اللہ سے روایت لائے ہیں کہ دو آیات کے سوا سب مکی ہیں۔کلبی رحمہ اللہ سے ایک آیت نقل کی ہے۔حسن،عطا،عکرمہ اور جابر رحمہ اللہ علیہم سے حکایت ہے کہ یہ بلا استثنا مکی ہے۔[1] اس میں منسوخ آیات بعض کے نزدیک پانچ ہیں اور اکثر کے نزدیک اس میں اور مائدہ میں کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔ پہلی آیت: ﴿قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْم﴾ [یونس: ۱۵] [بے شک میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ] کہتے ہیں کہ یہ آیت اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ﴾ [الفتح: ۲] [تاکہ اللہ تیرے لیے بخش دے تیرا کوئی گناہ جو پہلے ہو اور جو پیچھے ہو] سے منسوخ ہے۔اس جیسی آیات کے بارے میں کلام پہلے گزرچکا ہے۔ دوسری آیت: ﴿فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْن﴾ [یونس: ۲۰] [پس انتظار کرو بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں ] کہتے ہیں کہ یہ آیت،آیتِ سیف سے منسوخ ہے۔ تیسری آیت: ﴿وَ اِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَکُمْ عَمَلُکُم﴾ [یونس: ۴۱] [اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل] یہ بھی آیتِ سیف سے منسوخ ہے۔ چوتھی آیت: ﴿فَمَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ،الخ﴾ [یونس: ۱۰۸] [تو جو سیدھے راستے پر آیا تو وہ اپنی جان ہی کے لیے راستے پر آتا ہے] یہ آیتِ قتال سے منسوخ ہے۔ پانچویں آیت: ﴿حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ﴾ [یونس: ۱۰۹] [یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے] [1] فتح القدیر (۲/ ۵۹۴)