کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 367
کہتے ہیں کہ یہ آیت اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ﴾ [الأنفال: ۷۵] [اور رشتے دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں ] سے منسوخ ہے،یعنی مہاجرین و انصار ہجرت و نصرت کی وجہ سے ایک دوسرے کے وارث ہوا کرتے تھے،پھر یہ حکم ذوی القربیٰ سے منسوخ ہوگیا۔ آٹھویں آیت: ﴿وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُھَاجِرُوْا مَا لَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِھِمْ مِّنْ شَیْئٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا﴾ [الأنفال: ۷۲] [اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمھارے لیے ان کی دوستی میں سے کچھ بھی نہیں،یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں ] کہتے ہیں کہ یہ آیت اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ﴾ [الأنفال: ۷۵] [اور رشتے دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں ] سے منسوخ ہے،یعنی پہلے ہجرت کے ساتھ اسلام پر میراث تھی،اس کے بعد نصرت و موالات کی وجہ سے ہوگئی،اس کے بعد﴿اُولُوا الْاَرْحَامِ﴾ سے منسوخ ہوکر عصبہ پر قرارپائی۔بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور آیت میں اخبار ہے کہ بعض قرابتیں بعض سے اولیٰ تر ہیں نہ یہ کہ میراث نصرت و موالات سے منسوخ ہے،لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نسخ کی طرف گئے ہیں اور کہا ہے کہ اعرابی کا مہاجر متولی اور وارث نہیں ہوتا،حالانکہ وہ مومن ہوتا ہے اور ایسے ہی اعرابی مہاجر کا وارث نہیں ہوتا،پھر آیتِ ارحام نے اس کو منسوخ کردیا۔[1] سورت برأ ت: اسے’’سورۂ توبہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔یہ مدنی سورت ہے۔[2] امام قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں ایک آیت منسوخ ہے۔بعض کے نزدیک تین اور بعض کے نزدیک چھے یا اس سے بھی زیادہ منسوخ ہیں۔ [1] فتح القدیر (۲/ ۴۷۳) [2] فتح القدیر (۲/ ۴۷۵)