کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 365
ہوا۔اہلِ علم کی ایک جماعت کے نزدیک یہ آیت محکم ہے،یعنی عذاب کی نفی برقرار ہے اور استغفار اس میں ان مسلمانوں کے بارے میں ہے،جو ان کے درمیان ہیں اور معنی یہ ہے کہ ان کے اندر موجود مسلمان جب تک استغفار کرتے رہیں گے،اﷲ تعالیٰ عذاب نہیں دے گا۔یا اس کا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کے ان کی پشتوں میں سے ہونے کی وجہ سے ان کو عذاب نہیں ہے۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ ان میں دو امان تھے: ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو چلے گئے اور دوسرا استغفار جو برقرار ہے۔[1] تیسری آیت: ﴿قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْ لَھُمْ مَّا قَدْ سَلَف﴾ [الأنفال: ۳۸] [ان لوگوں سے کہہ دے جنھوں نے کفر کیا،اگر وہ باز آ جائیں تو جو کچھ گزر چکا انھیں بخش دیا جائے گا] کہتے ہیں کہ یہ آیت اس آیت: ﴿وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃ[الأنفال: ۳۹] [اور ان سے لڑو،یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے] سے منسوخ ہے،یعنی پہلی آیت میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے قتال و عداوت سے باز رہنے پر مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے،اس کے بعد ان سے قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ایک جماعت کے نزدیک یہ آیت محکم ہے اور اس کا معنی اسلام میں داخل ہونے کے ذریعے قتال سے یا کفر سے باز رہنا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ اسلام اپنے سے پہلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔[2] چوتھی آیت: ﴿وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃ﴾ [الأنفال: ۳۹] [اور ان سے لڑو،یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے] کہتے ہیں کہ یہ آیت،آیتِ سیف سے منسوخ ہے،لیکن در حقیقت یہ غایت (انتہائی مدت) کے ساتھ تخصیص کے باب سے ہے،نسخ کے باب سے نہیں۔ پانچویں آیت: ﴿وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا﴾ [الأنفال: ۶۱] [1] فتح القدیر (۲/ ۴۳۹) [2] دیکھیں : صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۲۱)