کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 357
آٹھویں آیت: ﴿فَاِنْ عُثِرَ عَلٰٓی اَنَّھُمَا اسْتَحَقَّآ اِثْمًا﴾ [المائدۃ: ۱۰۷] [پھر اگر اطلاع پائی جائے کہ بے شک وہ دونوں کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں ] کہتے ہیں کہ یہ آیت اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿وَّاَشْھِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُم﴾ [الطلاق: ۲] [دو صاحبِ عدل آدمی گواہ بنا لو] سے منسوخ ہے۔ نویں آیت: ﴿ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّھَادَۃِ عَلٰی وَجْھِھَا﴾ [المائدۃ: ۱۰۸] [یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو اس کے طریقے پر ادا کریں ] کہتے ہیں کہ اہلِ اسلام کی شہادت سے منسوخ ہے۔حاصل یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں شہادت کے اندر شک کی صورت میں شاہد کو حلف دلانا ہے۔لہٰذا یہ اﷲ کے ارشاد: ﴿وَ لَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّ لَا شَھِیْد﴾ [البقرۃ: ۲۸۲] [اور نہ کسی لکھنے والے کو تکلیف دی جائے اور نہ کسی گواہ کو] سے منسوخ ہوئی،لیکن درست یہ ہے کہ یہ دونوں آیات محکم ہیں،منسوخ نہیں اور وہ شہادت کے ذریعے نقصان سے روک دیے گئے ہیں اور شاہد میں اس کا اضرار ہے،لیکن درست یہ ہے کہ یہ دونوں آیتیں محکم ہیں،منسوخ نہیں،جیسا کہ گذشتہ تقریر سے ظاہر ہوچکا ہے اور اسی پر اہلِ علم اور ان کے محققین کی اکثریت ہے۔واللّٰه أعلم۔ سورۃالأنعام: ظاہر ترین اقوال کے مطابق چھے آیتوں کے سوا مکی ہے اور وہ یہ ہیں : ﴿وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ﴾ تین آیات کے آخر تک،﴿اَتْلُ مَا حَرَّم﴾ تین آیات کے آخر تک۔امام قرطبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ دوآیات مکی ہیں۔ایک ﴿وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ﴾ اور دوسری ﴿ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ﴾ ہے۔[1] بالجملہ اس میں منسوخات میں سے بعض کے نزدیک تین آیات ہیں،بعض کے نزدیک تیرہ اور بعض کے نزدیک چودہ ہیں۔ [1] فتح القدیر (۲/ ۱۳۷)