کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 343
کہتے ہیں کہ یہ آیت اس آیت: ﴿سَوَآئٌ عَلَیْھِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَھُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَھُمْ﴾ [المنافقون: ۶] [ان پر برابر ہے کہ تو ان کے لیے بخشش کی دعا کرے،یا ان کے لیے بخشش کی دعا نہ کرے،اللہ انھیں ہرگز معاف نہیں کرے گا] سے منسوخ ہے،یعنی یہ منافقین کے بارے میں ہے،جو دل میں کفرچھپائے رہتے ہیں اور اوپر سے اسلام ظاہر کرتے ہیں تو ان کی توبہ کی پذیرائی نہیں۔یہاں فقہا کے درمیان اختلاف ہے،اسی لیے بہت سے علما کے نزدیک یہ آیت منسوخ نہیں ہے،لیکن حیات نبوی میں استغفار نبوی پر مقصور ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد استغفار وارد نہیں ہوا ہے،لہٰذا یہ محض زیارتِ قبور کے لیے سفر اور مقبور سے طلبِ استغفار کے لیے دلیل نہیں ہوگی۔ چودھویں آیت: ﴿یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَکُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا﴾ [النساء: ۷۱] [اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے بچاؤ کا سامان پکڑو،پھر دستوں کی صورت میں نکلو،یا اکٹھے ہو کر نکلو] کہتے ہیں کہ یہ آیت اس آیت: ﴿وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً﴾ [التوبۃ: ۱۲۲] [اور ممکن نہیں کہ مومن سب کے سب نکل جائیں ] سے منسوخ ہے،یعنی پہلی آیت میں تمام مومنوں کو روانہ ہونے کا حکم تھا اور اس میں بعض کو ہے،لہٰذا دوسری آیت پہلی کی ناسخ ہوئی۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ کہتے ہیں کہ یہ آیت،اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا﴾ [التوبۃ: ۴۱] [نکلو ہلکے اور بوجھل] اور اس کے اس ارشاد: ﴿اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُم﴾ [التوبۃ: ۳۹] [اگر نہ نکلو گے تو وہ تمھیں عذاب دے گا] سے منسوخ ہے،لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں آیات محکم ہیں۔ایک اس وقت کے لیے ہے،جب سب کو جانے کی ضرورت ہو اور دوسری بعض کو چھوڑ کر بعض کے جانے پر اکتفا کے بارے میں ہے۔[1] انتھیٰ۔ پندرھویں آیت: ﴿وَ مَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا﴾ [النساء: ۸۰] [1] فتح القدیر (۱/ ۷۷۵)