کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 333
وہ آیت ہے جو مکے میں فتح مکہ والے سال عثمان بن طلحہ حجبی کے بارے میں اتری اور وہ اﷲتعالیٰ کا یہ ارشاد: ﴿اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا﴾ [النساء: ۵۸] [بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو] ہے۔[1]اس سورت میں اکثر اہلِ علم کے نزدیک تین آیات منسوخ ہیں۔بعض کے نزدیک تیرہ اور بعض کے نزدیک چوبیس ہیں۔ پہلی آیت: ﴿وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْہُ وَ قُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا﴾ [النساء: ۸] [اور جب تقسیم کے وقت قرابت والے اور یتیم اور مسکین حاضر ہوں تو انھیں اس میں سے کچھ دو اور ان سے اچھی بات کہو] کہتے ہیں کہ یہ آیت آیتِ مواریث سے منسوخ ہے۔سیوطی رحمہ اللہ نے’’الإتقان‘‘ میں فرمایا ہے کہ کہتے ہیں کہ منسوخ نہیں ہے،لیکن لوگوں نے اس پر عمل میں سستی کی۔[2] ’’الفوزالکبیر‘‘ میں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ آیت محکم ہے اور حکم استحباب کے لیے ہے اور یہ زیادہ ظاہر ہے۔[3]انتھیٰ۔ ’’فتح القدیر‘‘ میں امام شوکانی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس آیت میں قرابت دار سے مقصود غیر وارث ہیں اور ایسے ہی یتامیٰ اور مساکین ہیں،لہٰذا جب یہ تقسیم کے وقت حاضر ہوں تو انھیں کچھ دیا جائے۔ایک قوم کا مذہب ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور حکم ندب کے لیے ہے۔دوسرے کہتے ہیں کہ اﷲ کے ارشاد: ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ﴾ [النساء: ۱۱] [اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے] سے منسوخ ہے،مگر پہلا مذہب راجح ہے،کیونکہ آیت میں مذکور غیر وارث ہیں اور جو کچھ انھیں دیا جائے،وہ منجملہ میراث نہیں ہے کہ اسے آیتِ میراث سے منسوخ ٹھہرایا جائے،مگر جو قرابت دار کو ورثا کے معنی میں لیتے ہوں تو اس صورت میں نسخ کی ایک وجہ بنتی ہے۔ایک گروہ نے [1] تفسیر القرطبي (۵/ ۵) فتح القدیر (۱/ ۶۷۲) [2] الإتقان (۲/ ۶۱) [3] الفوز الکبیر (ص: ۵۵)