کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 328
پھر فرمایا: ﴿رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا﴾ [اے ہمارے رب! اور ہم پر کوئی بھاری بوجھ نہ ڈال،جیسے تو نے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے] فرمایا کہ میں نے کر دیا۔ پھر فرمایا: ﴿وَاعْفُ عَنَّا وَ اغْفِرْلَنَا﴾ [اور ہم سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے] فرمایا کہ میں نے کر دیا۔[1] پھر فرمایا: یہ قصہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چند طرق سے روایت کیا گیا ہے۔امام بخاری رحمہ اللہ اور امام بیہقی رحمہ اللہ مروان اصفر،وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص سے لائے ہیں کہ ﴿اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ﴾ [اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے،یا اسے چھپاؤ] کو اس کے بعد کی آیت نے نسخ کردیا ہے اور اندازہ ہے کہ مذکور صحابی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہوں گے۔[2] عبد بن حمید اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے علی رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے،[3] ایسے ہی سعید بن منصور اور ابن جریر و طبرانی رحمہ اللہ علیہم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔[4]ابن جریر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اس کے مانند روایت کیا ہے۔[5]ان روایات کے مجموعے سے سعید بن منصور،ابن جریر،ابن المنذر اور ابن ابی حاتم رحمہ اللہ علیہم کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس روایت کا ضعف ظاہر ہوگیا کہ یہ کتمانِ شہادت کے بارے میں ہے،کیونکہ اگر اس کے بارے میں ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر معاملہ اتنا دشوار نہ ہوتا۔بہر حال ناسخ و منسوخ کی صراحت کرنے والی ان احادیث کے بعد ان کی مخالفت کی گنجایش باقی نہیں رہی۔ [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۰۰) مسند أحمد (۱/ ۲۳۳) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۹۹۲) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۵۴۶) شعب الإیمان (۳۰۲۵) [3] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۵۹۰) [4] تفسیر الطبري (۳/ ۹۷) الطبراني (۹۰۳۰) [5] تفسیر الطبري (۳/ ۹۷)