کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 311
یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا﴾ [الحج: ۳۹] [ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے،اجازت دے دی گئی ہے،اس لیے کہ یقینا ان پر ظلم کیا گیا] ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نزول کے بعد جو لڑتا اس سے قتال کرتے اور جو باز رہتا اس سے باز رہتے تھے،یہاں تک کہ یہ آیت: ﴿وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً﴾ [التوبۃ: ۹] [اور مشرکوں سے ہر حال میں لڑو]اتری۔ سلف کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ اﷲ کے ارشاد: ﴿اَلَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ﴾ [ان لوگوں سے جو تم سے لڑتے ہیں ] کا معنی ہے کہ بچوں،عورتوں،راہبوں اور ان جیسوں کے ماسوا سے لڑو۔اہلِ علم اس آیت کو محکم غیر منسوخ قرار یتے ہیں اور پہلے قول والوں کے نزدیک’’اعتداء‘‘ کا معنی یہ ہے کہ کافر جماعتوں میں سے جو قتال نہیں کرتے،ان سے قتال نہ کرو اور دوسرے قول پر اس کا معنی یہ ہے کہ منجملہ مذکورین کے سزاوارِ قتل سے غیر سزاوارِ قتل کی طرف تجاوز نہ کرو۔[1] تیرھویں آیت: ﴿وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ کَذٰلِکَ جَزَآئُ الْکٰفِرِیْنَ﴾ [البقرۃ: ۱۹۱] [اور مسجدِ حرام کے پاس ان سے نہ لڑو،یہاں تک کہ وہ اس میں تم سے لڑیں،پھر اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو،ایسے ہی کافروں کی جزا ہے] کہتے ہیں کہ یہ آیت اس آیت: ﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ﴾ [التوبۃ: ۵] [تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو] سے منسوخ ہے،یعنی پہلی آیت میں حرم میں کافروں سے قتال کی نہی کی گئی ہے،مگر یہ کہ وہ قتال کی ابتدا کریں۔اس کے بعد اس کی تحریم کا حکم منسوخ ہوگیا اور ان کے ساتھ قتال کی ابتدا کو،وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں،جائزکردیا گیا۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس آیت میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور حرم میں قتال جائز نہیں،مگر اس کے بعد کہ کوئی اعتدا کے ساتھ قتال کرے،ایسی صورت میں اس کے دفعیے کے لیے مقاتلہ جائز ہے اور یہی درست ہے۔ایک گروہ نے کہا ہے کہ یہ آیتِ مذکورہ سے منسوخ ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان عام اور خاص کی [1] فتح القدیر (۱/ ۳۴۵)