کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 306
وہ جو غلامی میں ہوں اور ورثا کے سوا رشتے دار۔ ابن المنذر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اہلِ علم،جن سے علم کو یاد رکھا جاتا ہے،اس موقف پر ہیں کہ ان ماں باپ اور قریبیوں کے لیے،جو وارث نہ ہوں،وصیت جائز ہے۔بہت سے اہلِ علم کا مذہب یہ ہے کہ حدیثِ مذکور کے ساتھ آیتِ میراث منسوخ ہے۔کچھ اہلِ حدیث اسے صحیح قرار دیتے ہیں اور یہ کئی وجوہ سے مروی ہے۔بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ اس کا وجوب منسوخ ہے اور ندب برقرار ہے۔یہ موقف شعبی،نخعی اور امام مالک رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے۔[1] اس مسئلے کی تفصیل ہم نے’’دلیل الطالب علي أرجح المطالب‘‘ میں ذکر کردی ہے۔[2] دسویں آیت: ﴿کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ﴾ [البقرۃ: ۱۸۳] [تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے،جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے] کہتے ہیں کہ یہ آیت،اس آیت: ﴿کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ﴾ [البقرۃ: ۱۸۷] [کھاؤ اور پیو،یہاں تک کہ تمھارے لیے سیاہ دھاگے سے سفید دھاگا فجر کا خوب ظاہر ہو جائے] سے منسوخ ہے،یعنی عیسائی افطار کے بعد کھانے پینے اور ہم بستری سے عشاے آخر تک شغل رکھتے تھے اور جب سوجاتے تو دوسرے دن کی مغرب تک یہ تمام چیزیں ان پر حرام تھیں۔ایسے ہی اسلام میں یہ طریقہ رائج رہا،یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے ان سے رات کے وقت امساک (کھانا پینا ترک کرنا) اٹھالیا۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ مفسرین وجہ تشبیہ میں مختلف ہیں۔کہا گیا ہے کہ روزے کی مقدار اور اس کا وقت ایک ہے،کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ پر رمضان کا روزہ فرض کیا تھا،جسے انھوں نے بدل دیا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ وجوب ہے،یعنی گذشتہ امتوں پر روزہ واجب تھا اور یہ بھی کہاگیا ہے کہ یہ’’صفت‘‘ ہے،یعنی کھانے پینے وغیرہ کے ترک کرنے میں مشابہت ہے۔تو اول تقدیر پر آیت کا معنی یہ ہے کہ اس امت پر روزہ لکھ دیا گیا،جیسے ان سے پہلے لوگوں پر لکھ دیا گیا تھا اور [1] فتح القدیر (۱/ ۳۲۶) [2] دلیل الطالب (ص: ۸۰۰)