کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 301
اس طعن کے جواب میں اتری کہ’’صخرہ‘‘ کی طرف نماز درست تھی تو استقبالِ کعبہ باطل ہوگا اور اگر کعبہ کی طرف درست ہے تو استقبالِ’’صخرہ‘‘ باطل تھا اور وہ نمازیں بے سود ہوں گی۔ چھٹی آیت: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْھُدٰی مِنْم بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُولٰٓئِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ﴾ [البقرۃ: ۱۵۹] [بے شک جو لوگ اس کو چھپاتے ہیں جو ہم نے واضح دلیلوں اور ہدایت میں سے اتارا ہے،اس کے بعد کہ ہم نے اسے لوگوں کے لیے کتاب میں کھول کر بیان کر دیا ہے،ایسے لوگ ہیں کہ اللہ ان پر لعنت کرتا ہے اور سب لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں ] کہتے ہیں کہ یہ آیت،آیتِ استتابت یعنی ﴿اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴾ [البقرۃ: ۱۶۰] [مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور کھول کر بیان کر دیا تو یہ لوگ ہیں جن کی میں توبہ قبول کرتا ہوں اور میں ہی بہت توبہ قبول کرنے والا،نہایت رحم والا ہوں ] سے منسوخ ہے۔لیکن حقیقت میں یہ مخصوص کی جنس سے ہے نہ کہ منسوخ کی جنس سے۔ابن العربی رحمہ اللہ نے اس قسم کی آیتوں کی،جو استثنا یا غایت سے خاص ہیں،تجرید کرنے پر توجہ دے کر انھیں جداکردیا ہے۔امام سیوطی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ جس نے ان کو منسوخ میں داخل کیا ہے،غلط کیا ہے۔امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں یہ خبر دینا ہے کہ احکامِ قرآن کا چھپانے والا ملعون ہے۔ان سے مراد کون لوگ ہیں ؟ اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔بعض نے کہا کہ یہود کے علما اور عیسائیوں کے راہب مراد ہیں،جنھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو چھپایا اور بعض نے کہا کہ ہر سچا ئی کا چھپانے والا اور بیانِ واجب کا تارک مراد ہے اور یہی بہتر ہے،کیونکہ لفظ کے مفہوم کا اعتبار ہے نہ کہ سبب کے خصوص کا،جیسا کہ اصول میں بتایاگیا ہے۔لہٰذا اس کے یہود و نصاریٰ کے بارے میں نزول کو فرض کرنے کی صورت میں بھی یہ آیت سچائی کے ہر چھپانے والے کو شامل ہونے کے منافی نہیں اور ﴿اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا﴾ تائبین اور اپنے اعمال کے مصلحین اور کتاب اﷲ وسنن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کرنے والوں کا استثنا ہے۔[1] انتھیٰ۔ [1] فتح القدیر (۱/ ۲۵۰)