کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 299
تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں سے ہوگا] سے منسوخ ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی اسی طرف گئے ہیں،جیسا کہ ان سے ابن جریر و ابن ابی حاتم نے اور ابو داود رحمہ اللہ علیہم نے’’الناسخ والمنسوخ‘‘ میں روایت کیا ہے۔[1] امام شوکانی رحمہ اللہ نے ‘’فتح القدیر‘‘ میں فرمایا ہے کہ اس آیت میں ایمان سے مقصود وہ چیز ہے جسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام کے سوال کے جواب میں بیان کیاہے اور وہ اﷲ،ملائکہ،رسل اور تقدیر کے خیر و شر پر ایمان ہے۔ایمان سے وہی متصف ہوتا ہے،جو ملت اسلامیہ میں داخل ہوجائے،لہٰذا جو شخص نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور نہ قرآن پر تو وہ مومن نہیں ہے اور جو ان دونوں پر ایمان لایا،وہ مسلم مومن ہوگیا،یہودی و نصرانی اور مجوسی نہیں رہ گیا۔[2] انتھیٰ۔ اس معنی پر آیت مذکورہ منسوخ نہیں،بلکہ دوسری آیت کے موافق ہے،جسے ناسخ قرار دیا گیاہے۔ تیسری آیت: ﴿وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾ [البقرۃ: ۸۳] [اور لوگوں سے اچھی بات کہو] کہتے ہیں کہ یہ آیت،آیتِ سیف سے یعنی ﴿جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ﴾ [التحریم: ۹] [کفار اور منافقین سے جہاد کرو] سے منسوخ ہے۔امام سیوطی رحمہ اللہ نے’’الإتقان‘‘ میں کہا ہے کہ ابن الحصار رحمہ اللہ نے اس آیت کے نسخ کو غلط قراردیا ہے،کیونکہ یہ اخذ میثاق کی حکایت ہے،جو بنی اسرائیل سے لیا گیا،لہٰذا یہ خبر ہوگی،اس میں نسخ نہیں ہے۔[3] انتھیٰ۔ لوگوں نے کہا ہے کہ آیت میں’’قول حسن‘‘ سے مراد کلمہ توحید ہے اور یہ بھی کہاگیا ہے کہ صدق ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اَمر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ کسی معین صورت سے مختص نہیں ہے،بلکہ جس پر بھی صادق آئے وہ شرعاً’’حسن‘‘ ہے اور وہ اس آیت کا مصداق ہوگا۔[4] انتھیٰ۔ ظاہر یہ ہے کہ دوسری آیت عام کی تخصیص کی قبیل سے ہے اور عام کی تخصیص نسخ نہیں کہلاتی۔ [1] فتح القدیر (۱/ ۱۴۷) [2] مصدر سابق۔ [3] الإتقان (۲/ ۵۹) [4] فتح القدیر (۱/ ۱۶۸)