کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 295
((کُنْتُ نَھَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ أَلَا! فَزُوْرُوْہَا)) [1] [میں تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا،خبردار! ان کی زیارت کرو] 3۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے علم ہوجائے جیسے ماعز کا رجم اور اس کا عدمِ جلد،کیونکہ یہ آپ کے ارشاد: ((اَلثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَرَجْمُہُ بِالْحِجَارَۃِ)) [2] [شادی شدہ کو شادی شدہ سے زنا کرنے کے نتیجے میں اسے سو درے مارے جائیں اور پتھر مار کر سنگ سار کیا جائے] کے نسخ کا فائدہ دے رہاہے۔ 4۔اجماعِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت ہوجائے کہ یہ ناسخ اور وہ منسوخ ہے،جیسے صومِ یومِ عاشورا کا نسخ صومِ شہرِ رمضان سے اور مال سے متعلقہ حقوق کا نسخ ایجابِ زکات سے۔زرکشی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اسی کے مانند غلولِ صدقہ کی حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے صدقے اور اس کا نصف مال لینے کا حکم دیا،لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حدیث کے ترک استعمال پر اتفاق کرلیا اور یہ اس کے نسخ پر دال سے۔انتھیٰ۔جمہور کا مذہب بھی یہی ہے کہ اجماعِ صحابہ ناسخ ومنسوخ کے بیان کی ایک دلیل ہے۔[3] 5۔صحابی دو حکم میں سے ایک کے تقدم اور دوسرے کے تاخر کو نقل کرے،کیونکہ اس میں اجتہاد کا کوئی دخل نہیں ہے۔ابن سمعانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ ظاہر ہے،جب دونوں خبریں غیر متواتر ہوں اور اگر متواترکے بارے میں کہے کہ یہ آحاد سے پہلے کی ہے تو اس میں اختلاف ہے۔قاضی رحمہ اللہ نے’’تقریب‘‘ میں اس کو قبول نہ کرنے کی صراحت کی ہے اور صفی ہندی رحمہ اللہ نے اسے اکثر اہلِ علم سے نقل کیا ہے،کیونکہ یہ متواتر کے آحاد سے نسخ کو متضمن ہے جوجائز نہیں ہے۔قاضی عبدالجبار رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ مقبول ہے اور ابن سمعانی رحمہ اللہ نے شرط لگائی ہے کہ دونوں کا راوی ایک ہو۔سیوطی رحمہ اللہ نے’’الإتقان‘‘ میں ابن الحصار رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ نسخ کے بارے میں عوام مفسرین کی بات معتمد نہیں ہے،بلکہ اجتہاد بھی بغیر نقلِ صحیح و معارضۂ بینہ کے قابلِ اعتماد نہیں،کیونکہ نسخ حکم کے ازالے کو متضمن ہے اور اثبات حکم کا تقرر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم [1] سنن البیھقي (۴/ ۷۷) نیز دیکھیں : صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۹۷۷) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۱۶۹۰) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۱۴۳۴) سنن أبي داود (۴۴۱۶) [3] التمھید لابن عبد البر (۲/ ۲۳)