کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 290
12۔اجماع کا ناسخ اور منسوخ ہونا: جمہور کے نزدیک اجماع نہ نسخ پذیر ہوتا ہے اور نہ کسی چیز کا ناسخ ہوتا ہے،اس معنی میں کہ ایسا ہوا نہیں ہے نہ یہ کہ جائز نہیں ہے۔کچھ حنابلہ اس کے ناسخ ہونے کی طرف گئے ہیں،لیکن’’بسندہ‘‘ نہ کہ’’بنفسہ‘‘ یعنی نص صحیح پائی جائے اور اجماع اس کے خلاف ہو تو ہم جانیں گے کہ وہ حدیث’’منسوخ‘‘ ہے،کیونکہ اگر اہلِ اجماع اس کے ناسخ سے واقف ہوئے ہوتے تو اس کے برخلاف اجماع نہیں کرتے۔امام ابن حزم رحمہ اللہ نے کہاکہ یہ فحش غلطی ہے،لیکن حافظ بغدادی رحمہ اللہ نے کتاب’’الفقیہ والمتفقہ‘‘میں اس کی مثال میں وادی کی حدیث کو پیش کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہاں سو گئے اور انہیں آفتاب کی حرارت ہی نے بیدار کیا اور جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ((إِذَا سَہَا أَحَدُکُمْ عَن ْصَلَاۃٍ فَلْیُصَلِّھَا حِیْنَ یَذْکُرُھَا وَمِنَ الْغَدِ لِلْوَقْتِ)) [1] [جب تم میں سے کوئی شخص نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے،اسے ادا کرے اور دوسرے دن بروقت پڑھے] حالاں کہ فراموش شدہ نماز کا اعادہ یاد آنے پر قضا کے بعد اس کے وقت میں باتفاق مسلمین منسوخ ہے،کیونکہ نہ یہ واجب ہے اور نہ مستحب۔ 13۔قیاس ناسخ نہیں ہوتا: قرآن و سنت میں سے کسی چیز کا نسخ قیاس سے جائز نہیں ہے،یہی جمہور کا مذہب ہے،کیونکہ قیاس کا استعمال نص کے نہ ہونے پر ہے،پھر نص اس سے کیسے نسخ پذیر ہوسکتی ہے؟ ابوالقاسم انماطی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ قیاس جلی سے جائز ہے،قیاس خفی سے نہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اس وقت ہے جب اس کی علت منصوص ہو،مستنبط نہ ہو۔صفی ہندی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اختلاف کا محل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہے اور اس کے بعد با تفاق ناسخ نہیں ہے۔قیاس اپنی اصل کے نسخ کے ساتھ بیشک و تردد منسوخ ہو جاتا ہے اور اس کے بر قرار رہتے ہوئے اس کے نسخ کی صحت میں اختلاف ہے۔درست اور صحیح اسے روکنا ہے اور اصولیوں کی ایک جماعت نے یہی کہا ہے۔ [1] سنن أبي داود،رقم الحدیث (۴۳۷) مسند أحمد (۵/ ۲۲)