کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 286
[بلا شبہہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دین،دین حنیفیت ہے،یہودیت و نصرانیت نہیں ہے۔جو شخص بھلا کام کرے گا،اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی] امام حاکم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ’’صحیح الإسناد‘‘ ہے اور یہ اس میں سے ہے جس کا لفظ منسوخ ہوگیاہے اور اس کا معنی رہ گیا ہے۔حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے’’تمہید ‘‘ میں اسے اس میں سے شمار کیا ہے،جس کا خط،حکم اور حفظ منسوخ ہے اور فرمایا ہے کہ اسی میں اس کا یہ قول بھی ہے،جس نے کہا کہ’’سورۃ الأحزاب‘‘ سورۃ البقرہ کے برابر تھی۔[1] ناسخ منسوخ ہوجائے اور دونوں کے درمیان کوئی لفظ متلو نہ ہو،جیسے حلف و نصرت کے ذریعے مواریث،جو اسلام اور ہجرت کے ذریعے مواریث سے نسخ پذیر ہوئی اور اسلام اور ہجرت کے ذریعے توارث آیتِ میراث سے منسوخ ہوگیا۔ ابن سمعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک مذکورہ بالا آخری دو قسمیں محض تکلف ہے،اس میں نسخ ثابت نہیں ہے۔ابو اسحاق مروزی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: توریث بہ ہجرت اس قسم سے ہے،جس کے منسوخ ہونے کا علم ہے اور اس کے ناسخ کا پتا نہیں۔الحاصل تلاوت کا نسخ نہ کہ حکم کا یاحکم کا نسخ نہ کہ تلاوت کا یا دونوں کا ایک ساتھ نسخ اس بات سے ہے،جسے کوئی شرعی اور عقلی بندش نہیں روکتی۔لہٰذا اس سے روکنے کی کوئی وجہ نہیں،کیونکہ آیت کی تلاوت کا جواز اس کے احکام میں سے ایک حکم ہے اور جس حکم پر وہ دلالت کرتی ہے،وہ دوسرا حکم ہے اور ان دونوں کے درمیان تلازم نہیں ہے اور اس معنی کے ثبوت سے دونوں کے نسخ یا دونوں میں سے ایک کے نسخ کاجواز ثابت ہوتا ہے،جیسے تما م احکام متباینہ۔اس سلسلے میں ہماری دلیل اس کا وقوع و وجود ہے،جو جواز کی دلیل ہے۔[2] 9۔قرآن و سنت کے نسخ کی وجوہ: قرآن کے قرآن سے نسخ اور سنت متواترہ کے سنت متواترہ سے نسخ کے جواز میں اور آحاد کے آحاد سے نسخ اور آحاد کے متواتر سے نسخ کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں،جو بھی اختلاف ہے وہ قرآن و سنت متواترہ کے آحاد سے نسخ کے جواز و وجود کے بارے میں ہے۔ایک جماعت کا مذہب [1] التمھید لابن عبد البر (۴/ ۲۷۵) [2] إرشاد الفحول (۲/ ۶۷)