کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 280
کیونکہ اس نے کہا ہے کہ نسخ جائز تو ہے،مگر ہوا نہیں ہے۔قاضی القضاۃ محمد بن علی شوکانی رحمہ اللہ نے’’إرشاد الفحول‘‘ میں اس اختلاف میں اصفہانی رحمہ اللہ کا بھر پور رد کیا ہے اور تعجب کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’إن صح ھٰذا منہ فھو دلیل علٰی أنہ جاہل بہذہ الشریعۃ المحمدیۃ جہلا فظیعا،وأعجب من جھلہ بہا حکایۃ من حکیٰ عنہ الخلاف في کتب الشریعۃ،فإنہ إنما یعتد بخلاف المجتھدین لا بخلاف من بلغ في الجھل إلٰی ہٰذہ الغایۃ‘‘[1]انتھیٰ۔ [اگر یہ اس سے صحیح ثابت ہے تو یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ اس شریعت محمدیہ سے بہت بڑا جاہل ہے اور اس سے زیادہ حیرت کی بات کتبِ شریعت میں اس کے اختلاف کی حکایت کرنا ہے،کیونکہ مجتہدین کے اختلاف کا شمار ہوتا ہے نہ کہ اس شخص کے اختلاف کا جو جاہلیت کی اس انتہا کو پہنچا ہوا ہو] نسخ کی حکمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف کا بیان ہے کہ آپ کی شریعت سب شریعتوں کی ناسخ ہے،جب کہ آپ کی شریعت کا کوئی ناسخ نہیں ہے۔علما نے فرمایا ہے کہ اس کی حکمت بندوں کی مصلحتوں کی حفاظت ہے،تو جس وقت ان کی مصلحت ایک حکم کو دوسرے حکم سے اور ایک شریعت کو دوسری شریعت سے بدلنے میں ہو تو وہ تبدیلی اسی مصلحت کی رعایت میں ہو گی۔کہتے ہیں کہ ان سے دنیا میں ایک خدمت کے بوجھ کو اٹھانا ہے،تا کہ جنت میں اس کی بلندی کی بشارت ہو۔نیز یہ بھی کہتے ہیں کہ نسخ کی حکمت آسانی پیدا کرنا ہے اور اس کے علاوہ بھی مختلف موقف اختیار کیے گئے ہیں۔ 3۔نسخ کی شرائط: نسخ کے لیے کچھ شرطیں ہیں : 1۔منسوخ شرعی ہو،عقلی نہ ہو۔ 2۔ناسخ،منسوخ سے منفصل اور متاخرہو،کیونکہ جو مقترن ہو،جیسے شرط و صفت اور استثنا تو اس کانام نسخ نہیں بلکہ تخصیص ہے۔ 3۔اس کا شریعت سے ہونا ہے،لہٰذا موت کی و جہ سے حکم کا اٹھ جانا نسخ نہیں،بلکہ سقوطِ تکلیف ہوگا۔ [1] إرشاد الفحول (۲/ ۵۲)