کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 277
الدین سیوطی،(۸) امام ابوالقاسم ہبتہ اﷲ بن سلامۃ بن نصر المفسر المقری النحوی البغدادی،(۹) ابوالحسین،(۱۰) ابن المناوی اور (۱۱) علی ہمدانی وغیرہ نے قرآن کے ناسخ و منسوخ کے بارے میں تالیفات کی ہیں۔ان کے علاوہ (۱) ابومحمد قاسم بن اصبغ القرطبی النحوی،(۲) ابوبکر محمد بن عثمان المعروف بالجعد الشیبانی،ابن کیسان کے ایک ساتھی،(۳) احمد بن اسحاق الانباری،(۴) ابو جعفر احمد بن محمد النحاس النحوی،(۵) ابوبکر محمد بن موسیٰ الحازمی الہمدانی،(۶) ابوالقاسم ہبۃ اﷲ بن سلامۃ النحوی،(۷) ابوحفص عمر بن شاہین البغدادی الواعظ،(۸) ابراہیم بن علی المعروف بابن عبدالحق،(۹) امام عبدالکریم بن ہوازن القشیری،(۱۰) محمدبن بحرالاصبہانی،(۱۱) ابو الفرج بن الجوزی اور (۱۲) حسین بن عبدالرحمن الاہدل الیمنی وغیرہ نے حدیث کے ناسخ ومنسوخ کے بارے میں تصنیفات کی ہیں۔ لیکن اس اخیر زمانے میں توالیف و تصانیف عنقا و کیمیا ہوگئیں اور اس علم کے علما کی بے توجہی سے،خصوصاً ان عجمی ملکوں اور دیارِ ہند میں،گوشۂ عدم میں چلی گئیں۔اسی بنا پر یہ حقیر فقیر۔عفا اللّٰہ عنہ ما جناہ واستعملہ في ما یحبہ ویرضاہ۔(اﷲاس کے گناہوں کو معاف کرے اور اس سے اپنی مرضی کا پسندیدہ کام لے) دوستوں کی ایک جماعت کی مدد سے ۱۲۸۶؁ھ میں اس رسالے کی تالیف میں مشغول ہوا اور اسے ایک مقدمے،دوبابوں اور ایک خاتمے پر ترتیب دیا اور اس کا’’إفادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ‘‘ نام رکھا۔مقدمہ کتاب نسخ کے معانی اور اس کے احکام کے بیان میں ہے اور باب اول سورتوں کی ترتیب پر قرآن کریم کے ناسخ ومنسوخ کے بارے میں،باب دوم حدیث کے ناسخ ومنسوخ کے بارے میں اور خاتمہ کچھ اہم فوائد کے ذکر میں ہے۔و باللّٰہ التوفیق و إلیہ مآب۔