کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 267
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! وہ نبی مکلم تھے،یعنی اللہ تعالیٰ نے ان سے بات چیت کی تھی۔میں نے دریافت کیا: رسول کتنے ہوئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: تین سو اور کچھ اوپر دس کا جم غفیر اور ایک دفعہ پندرہ اوپر بتائے۔میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا ہے،اس میں سے افضل کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آیۃ الکرسی ﴿اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَھُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَا یَؤُْدُہٗ حِفْظُھُمَا وَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ﴾ ‘‘[1] (رواہ أحمد والنسائي و قد أخرج ھٰذا الحدیث مطولاً جداً أبو حاتم بن حبان في صحیحہ بطریق آخر و لفظ آخر مطولا جدا) ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ’’ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے جی میں ایسی بات کرتا ہوں کہ اگر آسمان سے گر پڑوں تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ وہ بات منہ سے نکالوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ رَدَّ کَیْدَہُ إِلَی الْوَسْوَسَۃِ))[اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے،سب تعریف اس اللہ کے لیے جس نے اس کی تدبیر کو ایک وسوسہ بنا دیا]‘‘ [2] (رواہ أحمد و أبو داؤد والنسائي) حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے کہا:’’آخر التفسیر و للّٰہ الحمد والمنۃ والحمد للّٰہ رب العالمین‘‘[3] انتہیٰ۔ فتح البیان میں اس سورت کی تفسیر کے آغاز میں ہے: فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ ﴿بِرَبِّ النَّاسِ﴾ کے معنی ہیں مربی اور مصلحِ احوال۔اللہ تعالیٰ [1] مسند أحمد (۵/۱۷۸) سنن النسائي،رقم الحدیث (۵۵۰۷) صحیح ابن حبان،رقم الحدیث (۳۶۱) مسند احمد اور سنن النسائی کی روایت میں عبید بن خشنی راوی ضعیف ہے اور صحیح ابن حبان کی روایت سے متعلق ابن عدی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس سند سے منکر ہے۔ [2] مسند أحمد (۱/۲۳۵) سنن أبي داؤد،رقم الحدیث (۵۱۱۲) سنن النسائي الکبریٰ (۶/۱۷۱،۱۵۰۳) [3] تفسیر ابن کثیر (۸/۵۴۱) دار طیبہ،الریاض