کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 257
شرک کے قریب نہیں ہے۔[1] ایک دوسری حدیث میں آیا ہے: ’’جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! انھوں کہا: ((بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ دَائٍ یُّؤْذِیْکَ،وَمِنْ شَرِّ کُلِّ حَاسِدٍ وَعِیْنٍ،اَللّٰہُ یَشْفِیْکَ)) [2] [اللہ کے نا م کے ساتھ میں تجھے دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے تکلیف دے،ہر حسد کرنے والے کے شر اور آنکھ (نظر لگ جانے) کے شر سے،اللہ تعالیٰ تجھے شفا عطا کرے] شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بیماری اس وقت تھی،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا،پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفا بخشی اور یہود کے حاسدین اور جادوگروں کی تدبیر کو رد کیا۔ان کی تدبیر میں ان کی تدمیر فرمائی اور انھیں رسوا کیا،لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن بھی ان پر عتاب نہیں فرمایا،بلکہ اللہ ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفا و عافیت بخشی۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ’’ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے چند روز بیمار رہے۔جبریل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنویں میں تمھارے لیے گرہیں لگائی ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھیجا کہ وہ اس جادو کو نکال لائے،لہذا وہ شخص جا کر اسے لے آیا اور اسے کھول ڈالا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے،گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بندھے ہوئے تھے اور اب اس سے کھل گئے ہیں،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کا کچھ ذکر نہ کیا اور نہ اس کے رو بہ رو کسی بدخلقی کا مظاہرہ کیا،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔‘‘[3] (رواہ النسائي) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی ہے: [1] تفسیرالطبري (۳۰/۲۲۷) [2] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۱۸۶) [3] سنن النسائي (۷/۱۱۲)