کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 250
تفسیر سورۃالفلق معوذتین کی قرآنیت: اس سورت کی پانچ آیات ہیں۔یہ مکی سورت ہے۔حسن،عکرمہ،عطا اور جابر رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ مدینے میں نازل ہوئی ہے۔بعض نے کہا ہے کہ یہی صحیح ہے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ معوذتین کو مصحف شریف سے کھرچ کر مٹا دیتے تھے اور کہتے تھے کہ قرآن کو غیر قرآن (معوذتین) کے ساتھ خلط ملط نہ کرو،یہ دونوں سورتیں کتاب اللہ سے نہیں ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف ان کے ساتھ تعوذ کرنے کو کہا تھا۔خود ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان دو سورتوں کو نماز میں نہ پڑھتے۔[1] بزار رحمہ اللہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے اس معاملے میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی متابعت و موافقت نہیں کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ان سورتوں کا پڑھنا بہ خوبی ثابت ہے اور انھیں مصحف میں لکھا گیا ہے۔[2]امام قرطبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ گمان اجماعِ صحابہ کے خلاف ہے۔[3] امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ نے بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح کہا ہے،مگر ابن الانباری رحمہ اللہ نے اس کو رد کیا ہے۔بعض نے کہا کہ معوذتین کی قرآنیت سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ انکار بہ طور نسیان تھا،جس طرح انھوں نے سورۃالفاتحہ کو بھی مصحف سے ساقط کر دیا تھا۔ فضائلِ معوذتین: 1۔عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] مسند أحمد (۵/۱۳۰) [2] مسند البزار (۵/۲۹) [3] الجامع لأحکام القرآن (۲۰/۲۵۱)