کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 248
پاس غلام بن کر آنے والا ہے،بلاشبہہ یقینا اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح گن کر شمار کر رکھا ہے اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس کے پاس اکیلا آنے والا ہے] نیز فرمایا: ﴿وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ* لَا یَسْبِقُوْنَہٗ بِالْقَوْلِ وَ ھُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ﴾ [الأنبیاء: ۲۶،۲۷] [اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے،وہ پاک ہے،بلکہ وہ بندے ہیں جنھیں عزت دی گئی ہے،وہ بات کرنے میں اس سے پہل نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم کے ساتھ ہی عمل کرتے ہیں ] نیز فرمایا: ﴿وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ * سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْن﴾ [الصآفات: ۱۵۸،۱۵۹] [اور انھوں نے اس کے درمیان اور جنوں کے درمیان رشتے داری بنا دی،حالانکہ بلا شبہہ یقینا جن جان چکے ہیں کہ بے شک وہ ضرور حاضر کیے جانے والے ہیں،اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں ] صحیح بخاری میں ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ اذیت اور تکلیف پر صبر کرنے والا کوئی نہیں،جسے وہ سنتا ہے۔وہ لوگ اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ ان کو رزق اور عافیت دیتا ہے۔[1] ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی حدیث میں ہے کہ اللہ عز وجل نے فرمایا: ’’ابن آدم نے مجھے جھٹلایا،حالانکہ اسے یہ نہ چاہیے تھا اور اس نے مجھے گالی دی،حالانکہ یہ اس کے لائق نہ تھا۔اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح مجھے پیداکیا ہے،اس طرح میرا اعادہ نہیں کر سکتا،حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا اعادہ کرنے سے کچھ آسان تر نہیں ہے۔اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۰۹۹)