کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 243
17۔معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے دس بار ﴿قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ سورت کو مکمل طور پر پڑھا،اللہ تعالیٰ اس کے لیے بہشت میں ایک محل بناتا ہے۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو اس کو بہت زیادہ پڑھا کریں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰہُ أَکْثَرُ وَ أَطْیَبُ))[اللہ تعالیٰ بہت فراوانی والا اور زیادہ پاکیزہ ہے۔]‘‘[1] (تفرد بہ أحمد) مسند دارمی میں اتنا اضافہ ہے: ‘’جو شخص بیس مرتبہ اس سورت کو پڑھے،اس کے لیے دو محل اور جو تیس مرتبہ پڑھے گا اس کے لیے تین محل تیار ہوں گے۔عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تب تو ہمارے محلات بہت زیادہ ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰہُ أَوْسَعُ مِنْ ذٰلِکَ))[اللہ تعالیٰ اس سے بہت زیادہ وسعت اور فراوانی رکھتا ہے۔]‘‘[2] (ھٰذا مرسل جید) 18۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا مروی حدیث میں ہے: ’’جو شخص پچاس مرتبہ ﴿قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ پڑھتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کے پچاس برس کے گناہ بخش دیتا ہے۔‘‘[3] (رواہ أبویعلیٰ) لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے سورۃالاخلاص کی فضلیت میں بہت سی احادیث نقل کی ہیں،جن میں اس سورت کو دو سو مرتبہ پڑھنے کا اجر و ثواب بیان ہوا ہے،لیکن ان میں سے اکثر و بیشتر ضعیف ہیں۔ 19۔بریدہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد میں آیا تو دیکھا کہ ایک شخص نماز میں دعا کر رہا تھا:’’اللّٰہم أسألک بأني أشھد أن لا إلہ إلا أنت،الأحد الصمد،الذي لم یلد و لم یولد،و لم یکن لہ کفوا أحد‘‘ [اے اللہ! میں تجھ سے اس واسطے سے دعا کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودبرحق نہیں ہے،تو ہی اکیلا اور بے نیاز ہے،جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا اور جس کا کوئی ہمسر نہیں ہے] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] مسندأحمد (۳/۴۳۷) اس کی سند میں زبان بن فائد ضعیف ہے۔ [2] سنن الدارمي،رقم الحدیث (۳۴۲۹) [3] سنن الدارمي (۲/۵۵۳) ضعیف الجامع،رقم الحدیث (۵۷۷۸)