کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 236
بدعتِ محض ہیں۔ممکن نہیں ہے کہ ان کا قائل و معتقد اعتقاد و عمل کے خلل سے محفوظ رہ سکے۔رہی یہ بات کہ صفات کے بعض ان الفاظ سے بہ ظاہر تشبیہ یا تمثیل یا تجسیم نکلتی ہے تو اس ظاہر کا علاج اس کلمہ اجمالی سے ہو جاتا ہے: ﴿لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئٌ﴾ [الشوریٰ: ۱۱] وہ صفات جنھیں سلف نے متشابہات میں شمار کیا ہے،جیسے قرب و معیت وغیرہ تو وہاں اس قدر کافی ہے کہ بندہ ان الفاظ کے ظاہر کے موافق ایمان لائے،اپنی عقل و خوض کو دخل نہ دے،اللہ تعالیٰ کو جملہ صفاتِ مخلوقین سے منزہ جانے اور کسی جگہ بھی کوئی تاویل نہ کرے،کیوں کہ یہ تاویل سلف سے ماثور و منقول نہیں ہے۔یہ تو تکذیب کی ایک قسم ہے۔بہتر (۷۲) فرقوں کی بڑی گمراہی یہیں سے ہوئی ہے کہ انھوں نے ان صفات اور ان کی کیفیات میں خوض و بحث کرتے ہوئے اپنے اوقات ضائع کیے۔اگر وہ ایمان لانے پر ہی اکتفا کرتے اور تاویلِ بارد اور توجیہِ کاسد میں نہ پڑتے تو خاصے موحد و مخلصین ہوتے،مگر انھوں نے جب حدیث ((مَا أَنَا عَلَیْہِ وَ أَصْحَابِيْ))[جس پر میں اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گامزن ہیں ] پر عمل نہ کیا،درآنحالیکہ ان کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ تھی تو وہ متشابہات کے درپے ہو گئے،صراطِ مستقیم سے دور جا پڑے اور محکمات کی بھی تاویلیں کر ڈالیں،حالانکہ متشابہات کو محکمات کی طرف لوٹانا چاہیے نہ کہ اس کے برخلاف و برعکس۔ حاصل یہ کہ جو مسلمان اپنے دین پر حریص ہو اور وہ یہ چاہے کہ دنیا میں ایمان کے ساتھ زندہ رہے اور ایمان ہی پر مرے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اس طرح پہچان رکھے،جس طرح خود اس نے ہمیں اس سورۃالاخلاص اور جا بہ جا دیگر آیات قرآنیہ میں اپنی پہچان کروائی ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اوصاف اپنی سنن و احادیث میں ذکر فرمائے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی صنم و وثن کو شریک نہ کرے اور وہ گمان پرست،پیر پرست،گور پرست اور کوکب پرست وغیرہ نہ بنے،تب کہیں وہ موحدِ خالص اور لائقِ مغفرت ہوگا،ورنہ مشرک کے لیے جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہنے کا حکم ہے۔اسی طرح عقیدہ و عمل میں جس کی بدعت،کفر کی سرحد تک پہنچ گئی ہے،جیسے خوارج،روافض اور ان جیسے دیگر لوگ،تو وہ بھی ہمیشہ آگ میں رہے گا۔ یہاں پر اس مضمون اور جملہ معترضہ سے زیادہ بحث کرنا مقصود نہیں ہے،بلکہ فقط اس سورۃ الاخلاص سے توحیدِ خالص ثابت کرنا مقصود ہے۔یہ سورت اپنے باب اور موضوع میں عظیم الشان ہے۔