کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 233
سورت ﴿قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ سورت کا تعارف: اس سورت کے بہت سے نام ہیں،تاہم اس کا مشہور نام’’سورۃ الإخلاص‘‘ ہے۔خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اس سورت کے ناموں کو ذکر کیا ہے۔ناموں کی کثرت مسمی (ذات) کے شرف و عظمت پر دلالت کرتی ہے۔اس سورت میں توحید کی صراحت،بت پرستوں کا رد اور تثنیہ و تثلیث کے قائلین پر انکار ہے۔یہ سورت چار یا پانچ آیات پر مشتمل ہے۔بعض نے کہا ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور بعض نے کہا کہ مدنی ہے۔ شانِ نزول: 1۔ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم ہم کو اپنے رب کا نسب بتاؤ! اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی: ’’﴿قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ* اَللّٰہُ الصَّمَدُ * لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ﴾ جو چیز پیدا ہوتی ہے وہ فوت بھی ہوتی ہے اور جو کوئی فوت ہوتا ہے،اس کا وارث بھی ہوتا ہے،لیکن اللہ تعالیٰ فوت ہو گا نہ کوئی اس کاوارث ہو گا۔﴿وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَحَدٌ﴾ یعنی کوئی اس کا ہمسر اور برابری کرنے والا نہیں،کیونکہ اس کی مثل کوئی شَے نہیں ہے۔[1] (رواہ أحمد والبخاري في تاریخہ وابن قتیبۃ والحاکم و صححہ) اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے مرسلًا روایت کیا ہے اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا نام ذکر نہیں کیا اور کہا ہے کہ یہ اصح ہے۔[2] [1] مسندأحمد (۵/۱۳۳) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۳۳۶۴) التاریخ الکبیر للبخاري (۱/۲۴۵) المستدرک للحاکم (۲/۵۸۹) اس کی سند میں’’ابو سعد محمد بن میسر‘‘ ضعیف ہے۔ [2] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۳۳۶۵)