کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 229
ہوں،میں تو اللہ تعالیٰ کی رضا و محبت کے مطابق اس کی عبادت کرتا ہوں اور کروں گا۔تم اس کی عبادت کرنے میں اس کے حکم و شرع کی پیروی نہیں کرتے،بلکہ تم نے اپنی مرضی سے ایک نئی چیز نکالی ہے،جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اِِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَھْوَی الْاَنْفُسُ وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مِّنْ رَّبِّھِمُ الْھُدٰی﴾ [النجم: ۲۳] [یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں،جو ان کے دل چاہتے ہیں اور بلاشبہہ یقینا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سارے اعمال سے بے زاری کا اظہار کیا،کیونکہ ہر عبادت گزار کو ایک معبود درکار ہوتا ہے،جس کی وہ عبادت کرے اور اس کی راہ پر چلے۔لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین نے اللہ تعالیٰ کی شرع کے موافق اس کو پوجا۔کلمہ اخلاص’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ کے یہی معنی ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہ ہو اور نہ اس کی راہ کے سوا،جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں،کوئی راہ ہو۔رہے کافر و مشرک تو وہ غیراللہ کے عبادت گزار ہیں،جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا۔لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہہ دیا کہ تمھارا دین تمھارے لیے اور ہمارا دین ہمارے لیے۔اسی طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَ اِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَکُمْ عَمَلُکُمْ اَنْتُمْ بَرِیْٓؤُنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓئٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ﴾ [یونس: ۴۱] [اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے! میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل،تم اس سے بری ہو جو میں کرتا ہوں اور میں اس سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو] نیز فرمایا: ﴿لَنَآ اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ﴾ [البقرۃ: ۱۳۹] [اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال] امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ﴿لَکُمْ دِیْنُکُمْ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ تمھارا دین کفر ہے اور ﴿وَلِیَ دِیْنِ﴾ میرا دین اسلام ہے۔بعض علما نے کہا ہے کہ میں اس وقت ان کو نہیں پوجتا جن کو تم