کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 216
کر دیں گے۔یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمھیں دیا ہے،تاکہ تم بچ جاؤ)‘‘ [1] (رواہ أحمد والنسائي والدارمي) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں کتاب و سنت کے اتباع کو صراطِ مستقیم اور اس کے سوا دیگر راستوں کو شرک و بدعت فرمایا ہے اور ان کی پیروی سے منع کیا ہے۔نہی میں اصل تحریم ہے،جس طرح امر میں اصل وجوب ہے۔اب جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہی پرچلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کو ترک کر دے تو وہ شخص صریح گمراہ اور صراطِ مستقیم سے منحرف ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتر (۷۲) فرقوں کو جو مذکورہ راستوں میں داخل ہیں،جہنمی کہا ہے اور صراطِ مستقیم پر چلنے والوں کو ناجی ٹھہرایا اور فرمایا ہے کہ ناجی فرقہ وہ ہے،جو میرے اور میرے اصحاب کی راہ پر گامزن ہے۔[2] اس راہ سے مراد وہی صراطِ مستقیم ہے،جس کی اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت میں وصیت فرمائی ہے اور سورۃالفاتحہ میں ہمیں اس کا سوال کرنے کا طریقہ سکھایا ہے۔ ﴿صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ﴾ کی تفسیر: اس آیت میں انعام یافتہ سے یا تو پہلے انبیا اور ان کے اصحاب مراد ہیں،جو خالص توحید پر گامزن تھے اور توحیدِ الوہیت و ربوبیت کے قائل و فاعل تھے،یا اس سے مراد ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحابِ عالی جناب ہیں،جو ہمیشہ قرآن و حدیث کے تابع و متبع رہے اور اسی سیدھی راہ سے دائیں بائیں نہیں ہوئے۔لہٰذا بندہ نماز کی ہر رکعت میں اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہ سوال کرتا ہے کہ مجھے ان کی راہ دکھا۔نیز بندے پر یہ فرض ہے کہ وہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرے کہ اس نے ہمیں جس راہ کا سوال کرنے کی ہدایت کی ہے،وہی سیدھی راہ ہے اور جو طریق و علم یا عبادت اس راہ کے برخلاف ہے،وہ مستقیم نہیں،بلکہ ٹیڑھی ہے۔صراطِ مستقیم والے خط سے ہٹ کر دائیں بائیں جو خط ہیں،ان میں سے ہر ایک پر شیطان ہے،جو اسے اس ٹیڑھی راہ کی طرف بلاتا ہے۔یہ اس آیت کا پہلا لازمی سبق ہے۔بندے کو دل سے یہ اعتقاد رکھنا چاہیے اور اسے چاہیے کہ وہ شیطان کے فریب [1] مسند أحمد (۱/۴۳۵) سنن النسائي الکبریٰ (۶/۳۴۳) سنن الدارمي (۱/۷۸) صحیح الترغیب والترھیب (۳/۱۶۶) [2] سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۶۴۱)