کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 215
﴿إِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ﴾ کی تفسیر: یہ ایک صریح دعا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کا حصہ ہے،گویا بندہ کمال عاجزی اور الحاح کے ساتھ یہ سوال کرتا ہے کہ اے اللہ! مجھے یہ مطلب عظیم عطا فرما،کیونکہ دنیا اور آخرت میں کسی کو اس سے بڑھ کر افضل کوئی انعام نہیں دیا گیا ہے،جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح مکہ کے بعد یہ منت و احسان رکھا ہے اور فرمایا ہے: ﴿وَیَھْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا﴾ [الفتح: ۲] [اور تجھے سیدھے راستے پر چلائے] اس آیت میں ہدایت سے مراد ارشاد و توفیق ہے۔اب ذرا بندہ اس مسئلے کی طرف اپنی ضرورت پر غور و تامل کرے،کیونکہ یہ ہدایت علمِ نافع اور عملِ صالح کو استقامت،کمال اور ثبات کے ساتھ متضمن ہے،یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ ﴿صِرَاطَ﴾ ایسے کھلے اور سیدھے راستے کو کہتے ہیں،جس میں کوئی کجی اور ٹیڑھ نہ ہو۔اس راہ سے مراد وہ دین ہے جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔یہ دین کتاب و سنت کے اتباع سے عبارت ہے،چنانچہ جو امر اس اتباع کے خلاف ہے،وہ کج ہے،راست نہیں۔اگر یہ کجی عقیدے میں ہے تو شرک ہے اور اگر عمل میں ہے تو بدعت ہے۔یہ سیدھا راستہ ایک ہی ہے اور باقی جتنے راستے اس کے سوا ہیں،وہ سب ٹیڑھے اور صراطِ مستقیم سے ہٹے ہوئے ہیں۔لہٰذا حدیث میں آیا ہے: ’’شرک کے ستر (۷۰) دروازے ہیں اور بدعت کے بہتر (۷۲)‘‘ [1] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط کھینچا اور فرمایا: یہ اللہ کی راہ ہے،پھر اس پہلے خط کے دائیں بائیں اور خط کھینچے اور فرمایا: یہ مختلف راہیں ہیں،ان میں سے ہر راہ پر ایک شیطان ہے،جو انسان کو اس کی طرف بلاتا ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَ اَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ [الأنعام: ۱۵۳] (اور یہ کہ بے شک یہی میرا راستہ ہے سیدھا،پس اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمھیں اس کے راستے سے جدا [1] مسندالبزار (۵/۳۱۸)