کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 211
اور آپ تمام مخلوق میں سب سے زیادہ وعدہ پورا فرمانے والے ہیں۔اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزِ قیامت فضل کرتے ہوئے میرا ہاتھ نہ تھامیں تو اے مخاطب! کہہ ہائے افسوس! قدم کی لغزش!] جو شخص اپنا خیرخواہ ہے،وہ ان اشعار پر ذرا غور کرے کہ ان کے کیا معنی ہوئے،جس پر بندوں کا ایک گروہ پھنسا ہوا اور پاگل ہو رہا ہے،پھر وہ عالم ہونے کا دعوی کرتا ہے اور اس کی تلاوت کو قرآن عظیم کی تلاوت پر ترجیح دیتا ہے۔کیاکسی شخص کے دل میں مذکورہ اشعار کی تصدیق اور مندرجہ ذیل فرمانِ باری تعالیٰ اور حدیث نبوی کی تصدیق جمع ہو سکتی ہے؟ ارشادِ الہٰی ہے: ﴿لاَ تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا وَّالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰہ﴾ [الانفطار: ۱۹] [جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گی اور اس دن حکم صرف اللہ کا ہوگا] نیز حدیث نبوی ہے: ((یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ! أَنْقِذِيْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّيْ لَا أُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا)) [1] [اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا لینا،یقینا میں اللہ کے ہاں تجھ سے کچھ کفایت نہیں کرسکوں گا] نہیں اللہ کی قسم! یہ دو چیزیں ہرگز اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔کیا کسی شخص کا دل اس بات کی گواہی دے سکتا ہے کہ موسیٰ و فرعون دونوں سچے تھے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو جہل دونوں حق پر تھے…؟! کسی نے کیا خوب کہا ہے: ’’لَا وَاللّٰہِ! مَا اسْتَوَیَا وَلَنْ یَّتَلَاقَیَا حَتّٰی تَشِیْبَ مَفَارِقُ الْغِرْبَانِ‘‘ [اللہ کی قسم! وہ دونوں برابر ہیں اور نہ کبھی باہم ہی مل سکتے ہیں حتیٰ کہ کوؤں کے سر کے بال سفید ہو جائیں ] چنانچہ جس شخص نے اس مسئلے کو پہچان لیا ہے اور قصیدہ بردہ اور اس کے مبتلا لوگوں کو بھی جان لیا ہے،وہ اس بات کو بھی سمجھتا ہے کہ اسلام اس مقولے کے مصداق’’مسلمانی در کتاب اور مسلماناں [1] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۰۴)