کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 208
تھان۔مگر بنی اسرائیل پر جب یہ بات ظاہر ہوئی کہ ہم نے غیراللہ کو پوجا تو وہ ڈر گئے۔قرآن مجید میں اس کا ذکر یوں آیا ہے: ﴿وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْٓ اَیْدِیْھِمْ وَ رَاَوْا اَنَّھُمْ قَدْ ضَلُّوْا قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْلَنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْن﴾ [الأعراف: ۱۴۹] [اور جب وہ پشیمان ہوئے اور انھوں نے دیکھا کہ بے شک وہ تو گمراہ ہوگئے ہیں،تو انھوں نے کہا یقینا اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو ہم ضرور ہی خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے] یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شرک میں جہل عذر نہیں ہوتا ہے۔ہاں توبہ سے شرک مٹ جاتا ہے،بشرطیکہ سچے دل سے کی ہو،ورنہ یہ بھی نفاق ہوتا ہے کہ ظاہر میں تو تائب ہو اور باطن میں بدستور فاسق ہی رہے،جس طرح آج کے اس دور میں اکثر لوگوں کا یہی حال ہے۔ دل میں ہو یادِ صنم ہاتھ میں قرآن ہووے رب کا معنی: رب کے معنی مالک و متصرف کے ہیں۔لہٰذا اللہ تعالیٰ ہر شے کا مالک ہے اور ہر چیز میں اسی کا تصرف چلتا ہے اور یہی حق ہے۔وہ بت پرست جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد و قتال کیا تھا،جیسے قرآن مجید میں جابجا اس قتال کا ذکر آیا ہے،وہ بھی اس کے قائل تھے کہ ہر شے کا مالک اور ہر چیز میں متصرف رب تعالیٰ ہے۔ارشادِ خداوندی ہے: ﴿قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰہُ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴾ [یونس: ۳۱] [کہہ دے کون ہے جو تمھیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یا کون ہے جو کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے؟ اور کون زندہ کو مردہ سے نکالتا اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے؟ اور کون ہے جو ہر کام کی تدبیر کرتا ہے؟ تو ضرور کہیں گے’’اللہ‘‘ تو کہہ پھر کیا تم ڈرتے نہیں ؟]