کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 202
اخلاص اور حضورِ قلب کے ساتھ ہم یہ دعا کریں گے تو وہ ہماری یہ دعا قبول فرمائے گا۔ان باتوں کی معرفت حاصل کرنے کے بعد اب ہر شخص یہ جان سکتا ہے کہ اکثر لوگوں نے اس امر کو ضائع کر دیا ہے اور اس نعمت کی قدر و قیمت نہیں سمجھی۔ قَدْ ھَیَّأُوْکَ لِأَمْرٍ لَوْ فَطِنْتَ لَہُ فَارْبَأْ بِنَفْسِکَ أَنْ تَرْعیٰ مَعَ الْھَمَلِ [انھوں نے تجھے ایک ایسے کام کے لیے تیار کر دیا ہے،اگر تو اس کی قدر و قیمت کو سمجھتا ہے تو اپنے آپ کو آوارہ اونٹ کے ساتھ چرنے پھرنے جیسے بے کار اور بے وقعت کاموں میں لگانے سے بچا] نماز میں خشوع و خضوع کیسے پیدا ہوتا ہے؟ اب اس سورت کے بعض معانی لکھے جاتے ہیں۔شاید تم حضورِ دل سے نماز پڑھنے لگو اور جو الفاظ تمھاری زبان سے نکلتے ہیں،تمھارے دل انھیں معلوم کر لیں،کیونکہ جو بات زبان سے نکلتی ہے اور دل اس پر حاضر نہیں ہوتا تو وہ عمل صالح نہیں سمجھا جاتا،جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِھِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ﴾ [الفتح: ۱۱] [وہ اپنی زبانوں سے کہتے ہیں،جو ان کے دلوں میں نہیں ] تعوذ کا مفہوم: سب سے پہلے استعاذے کے معنی سمجھنا چاہیے،پھر بسملہ کے اور پھر سورۃالفاتحہ کے۔﴿اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ﴾ کے معنی یہ ہوئے کہ میں اللہ کے ساتھ پناہ پکڑتا ہوں،اس کی حفاظت میں آتا ہوں اور میں اس دشمن سے بھاگ کر اس کے آستانے پر آتا ہوں کہ کہیں وہ مجھ کو میرے دین اور میری دنیا میں گزند اور نقصان پہنچائے یا مجھے اس کام کے کرنے سے روک دے،جس کا مجھ کو حکم ہوا ہے،یا جس چیز سے مجھے منع کیا گیا ہے،وہ مجھے اس پر آمادہ کرے،کیونکہ شیطان کو بندے کے بہکانے پر سب سے زیادہ حرص اس وقت ہوتی ہے،جب وہ نماز اور قراء ت وغیرہ جیسے کسی عملِ خیر کا ارادہ کرتا ہے۔اسے دفع کرنے کا حیلہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے استعاذہ کرے۔لہٰذا بندے کو اس کی پناہ میں آنا چاہیے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: