کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 186
درود شریف کے افضل الفاظ ملا علی قاری نے حزبِ اعظم میں درود کے الفاظ کا ذکر کرتے وقت کہا ہے کہ سب سے افضل وہ درود ہے جو تشہد کے بعد پڑھا جاتا ہے (یعنی درود ابراہیمی) [1] انتھیٰ۔ لیکن اس درود میں سلام کا ذکر نہیں آیا ہے،اس لیے کہ تشہد میں سلام آ جاتا ہے۔لہٰذا جو شخص اس درود کو نماز کے باہر پڑھے،وہ اس میں سلام کے الفاظ زیادہ کر لے۔ حزبِ اعظم میں مذکورہ درودوں کی مجموعی تعداد اڑتالیس (۴۸) ہے،ان میں سے چھتیس (۳۶) درود مرفوع ہیں اور باقی صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔میں نے اپنی کتاب’’نزل الأبرار‘‘ میں مرفوعاً مروی درود مع تخریج لکھے ہیں،وہ تیس (۳۰) سے زیادہ درود نہیں بنتے،بلکہ قدرے کم ہیں۔ اہلِ علم کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ افضل درود کون سا ہے؟ یہ اختلاف یا تو اس لیے ہے کہ جس درود کی شان میں افضلیت کا اطلاق ہوا ہے وہ افضل ہے یا اس لیے کہ وہ کیفیت و کمیت فاضلہ پر مشتمل ہے۔ بعض اہلِ علم نے درود کے دس صیغے ذکر فرمائے ہیں : 1۔ایک تشہد والا درود جسے افضل درود کہا ہے۔ 2۔دوسرا صیغہ یہ ہے: ’’اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کلما ذکرہ الذاکرون وکلما سھا عن ذکرہٖ الغافلون‘‘ [اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج جب بھی ذکر کرنے والے اس کا ذکر [1] الحزب الأعظم (ص: ۵۱ مخطوط)