کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 180
الآیات والأحادیث‘‘[1] انتھیٰ۔ [بلا شبہہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھنا ارزاق و برکات میں اضافہ کرتا ہے،حاجات پوری کرتا ہے اور ہر قسم کے غموں،دکھوں اور تکلیفوں کو دور کرتا ہے،اس کا باقاعدہ مشاہدہ ہوا ہے۔سلف و خلف کا یہ مجرب عمل ہے۔جن و انس اور ملائکہ میں سید الانام صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا توسل تمام معاملات میں ثابت ہے،جیسے کہ آیات و احادیث بھی اس پر دلالت کرتی ہیں ] جو مومن مصائب و امراض اور غموم و کروب میں مبتلا ہو یا منصب و جاہ طلب کرے یا فقر و ذلت میں مبتلا ہو یا معزول منصب کو حاصل کرنا چاہتا ہو یا آفاتِ سماویہ اور بلاے ارضیہ کے دفعیہ کی خواہش رکھتا ہو،وہ دن رات کثرت سے درود پڑھا کرے،اس درود کی برکت سے سب مقاصد کو پہنچ جائے گا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے والد ماجد شیخ عبدالرحیم رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’بھا وجدنا ما وجدنا‘‘ انتھیٰ۔ [ہمیں جو کچھ ملا ہے وہ اسی (درود) کی برکت سے ملا ہے] درود کے صیغے چار ہزار،بلکہ بارہ ہزار تک ہیں۔ہر ایک صیغے کو اہلِ شرق و غرب کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے۔اس رابطے کی مناسبت سے جو ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہے۔نیز فہم خواص و منافع و اسرار کے مطابق درود کے بعض صیغے وہ ہیں،جو تجربے اور مشاہدے سے مشہور ہیں،جن سے غم دور ہوتے ہیں اور مرغوب چیزیں حاصل ہوتی ہیں،جیسے’’صلات منجیہ‘‘ ہے اور وہ الفاظ درج ذیل ہیں : ’’اللہم! صل علیٰ سیدنا محمد صلاۃ تنجینا بھا من جمیع الأھوال والآفات،وتقضي لنا بھا جمیع الحاجات،وتطھرنا بھا من جمیع السیآت،وترفعنا بھا أعلیٰ الدرجات،وتبلغنا بھا أقصیٰ الغایات من جمیع الخیرات في الحیات وبعد الممات‘‘[2] [1] خزینۃ الأسرار (ص: ۲۰۸) [مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ ] [2] خزینۃ الأسرار (ص: ۲۰۹) [مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ ]