کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 174
خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا بیان 1۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آیا ہے: ((لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ إِلَّا مُبَشِّرَاتٌ،قَالُوْا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ)) [1] (رواہ البخاري) [نبوت میں سے صرف’’مبشرات‘‘ باقی رہ گئے ہیں۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: مبشرات کیاہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھے خواب] امام مالک رحمہ اللہ نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں : ((یَرَاھَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَوْ تُریٰ لَہٗ)) [2] [(وہ خواب) جسے مسلمان دیکھتا ہے یا اس کی خاطر (کسی دوسرے کو) دکھایا جاتا ہے] 2۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: ((اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْئٌ مِنْ سِتَّۃٍ وَّ أَرْبَعِیْنَ جُزْئاً مِنَ النُّبُوَّۃِ)) [3] (متفق علیہ) [نیک آدمی کے سچے خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں ] 3۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ((مَنْ رَآنِيْ فِيْ الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِيْ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَتَمَثَّلُ صُوْرَتِيْ)) [4] [جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو یقینا اس نے مجھے ہی دیکھا،کیوں کہ شیطان میرا روپ نہیں دھار سکتا] [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۵۸۹) [2] الموطأ للمالک (۲/۹۵۷) [3] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۵۸۸) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۲۲۶۳) [4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۵۸۴۴) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۶۲۶۶)