کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 166
سورۃ الاخلاص کے فضائل و خواص 1۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ﴿قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ (سورۃ الاخلاص) پڑھتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی۔میں (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: کیا واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت۔[1] (رواہ مالک) 2۔ان سے دوسری روایت میں مروی الفاظ یوں ہیں : ((إِنَّھَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ)) [2] (رواہ مسلم) [بلا شبہہ وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے] 3۔سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین جزو ٹھہرائے،ان میں سے ایک جزو قرآن ﴿قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ (سورۃ الاخلاص) ہے۔[3] (رواہ مسلم) 4۔سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص ہر رات ثلث قرآن نہیں پڑھ سکتا ہے؟ ﴿قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ (سورۃ الاخلاص) ثلث قرآن ہے۔[4] (رواہ الترمذي) 5۔سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں کہا ہے: ((وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ! إِنَّھَا لَتَعْدِلُ ثُلَثَ الْقُرْآنِ)) [5] (رواہ البخاري) [قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کہ بلا شبہہ وہ (سورۃ الاخلاص) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے] 6۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ کیا تو نے شادی کر لی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں، [1] الموطأ للمالک (۴۸۶) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۸۹۷) سنن النسائي،رقم الحدیث (۹۹۴) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۹۳۹) صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۱۲) [3] صحیح مسلم،رقم الحدیث (۸۱۱) [4] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۴۷۲۷) صحیح مسلم (۸۱۱) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۸۹۶) [5] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۶۹۳۹)