کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 157
مرتبۂ علیا،منصبِ اعظم اوراموال و املاک میں تصرف ملتا ہے۔وہ رجال و نسا میں محبوب ہوتا ہے اور بادشاہ کے نزدیک محبوب ٹھہرتا ہے۔[1] اس سورت میں اور بھی بہت سے اسرار و رموز ہیں،میں نے اس غرض سے ان کو ترک کر دیا ہے،تاکہ وہ جاہلوں کے لیے کھلواڑ نہ بن جائے۔ اس سورت کی یہ آیت: ﴿اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْر﴾ [الملک: ۱۴] [کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے؟ اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے،کامل خبر رکھنے والا ہے] مرض و بلا اور مصائب و فقر کے دور کرنے کے لیے نافع ہے۔عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ دو ہزار بارہ مرتبہ پڑھنے میں انواع و اقسام کے فوائد و منافع ہیں۔[2] 7۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نہ سوتے،یہاں تک کہ الم تنزیل اور تبارک الذی پڑھتے۔[3] (رواہ أحمد والترمذي والدارمي،وقال الترمذي: ھٰذا حدیث صحیح،وکذا في شرح السنۃ،وفي المصابیح: غریب) [1] خزینۃ الأسرار (ص: ۱۶۸) [2] خزینۃ الأسرار (ص: ۱۶۸) [3] مسند أحمد (۳/۳۴۰) سنن الترمذي،رقم الحدیث (۲۸۹۲) شرح السنۃ للبغوي (۴/۴۷۲) مصابیح السنۃ للبغوي (۲/۱۲۳)