کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 154
سورۃ الفتح کی فضیلت اور اس کے خواص صحیح بخاری میں مرفوعاً مروی ہے: ((لَقَدْ نَزَلَتْ عَلَيَّ الْلَّیْلَۃَ سُوْرَۃٌ أَحَبُّ إِليَّ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا)) [1] [گذشتہ رات مجھ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایک سورت نازل ہوئی ہے،جو مجھے دنیا وما فیھا سے زیادہ محبوب ہے] اس سے مراد سورت ﴿اِِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا﴾ ہے۔ بعض عارفین نے کہا ہے کہ جو شخص اس سورت کو رمضان کی پہلی شب چاند دیکھتے وقت پڑھے،اس پر پورا سال رزق کی وسعت رہے گی اور جو شخص ہر دن پڑھا کرے گا،وہ خواب میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرے گا۔ضعیف اس کے پڑھنے سے قوی،ذلیل عزیز،مغلوب منتصر اور تنگ دست خوش حال ہو جائے گا۔مقروض کے قرض کی ادائی ہو جائے گی اور قیدی اس سے رہائی پائے گا اور مکروب سے کرب دور ہو گا۔ بعض مشائخ نے کہا ہے کہ اس کا اکیس بار پڑھنا ہر مطلوب کے حصول کا موجب اور ہر مکروہ کے دور کرنے کا موجب ہے۔یا وہ اکتالیس (۴۱) بار تین دن تک یا پانچ دن یا سات دن تک لگاتار پڑھے۔[2] [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث (۳۹۴۳) [2] خزینۃ الأسرار (ص: ۱۶۶)