کتاب: مجموعہ علوم القرآن - صفحہ 149
میں غلط طریقے سے گناہ کما رہے ہوتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے: قضاۃ الدہر قد ضلوا فقد بانت خسارتھم [زمانے کے فیصلہ کرنے والے قاضی گمراہ ہوئے،پس ان کا خسارہ عیاں ہے] باعوا الدین بالدنیا فما ربحت تجارتھم [انھوں نے دنیا کے عوض دین کو بیچ ڈالا،تو ان کی تجارت نفع مند نہ ہوئی] بعض اہلِ علم نے کہا ہے: ’’دیننا مبني علی النقول لا علی مناسبۃ العقول،ومن أصول الدین أن أسماء اللّٰہ تعالیٰ توقیفیۃ لا تقبل الزیادۃ والنقصان‘‘[1] انتھیٰ۔ [ہمارا دین نقول (نصوص) پر مبنی ہے نہ کہ عقول کی پسند اور مناسبت پر،دین کے اصول میں سے یہ بات ہے کہ بلا شبہہ اللہ تعالیٰ کے اسما توقیفی ہیں،جو کمی و بیشی کوقبول نہیں کرتے] آیۃ الکرسی کے اَسرار: شیخ ابوالعباس بونی قرشی مغربی رحمہ اللہ نے اہلِ عزیمت کے طریق پر آیۃالکرسی کے خصائص و دعوات لکھے اور اس کے منافع و فوائد بیان کیے ہیں۔پھر کلمات و حروف و اعداد کا ملاحظہ کیا ہے اور اس کی قراء ت کی ترکیبات بتائی ہیں۔امام غزالی،ابوالفرج اور ابن عربی نے اس آیت مبارکہ کے بہت سے اسرار ذکر کیے ہیں۔یہاں ان کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے،کیوں کہ اکثر لوگ کم ہمت ہیں۔اگو کوئی شخص سنتِ صحیحہ کے مطابق جملہ فوائد کی امید کے ساتھ اس کے ورد پر مداومت کرے تو بھی غنیمت اور کفایت ہے۔اس آیت کا ایک وفق بھی پچیس (۲۵) خانے کا ہے،جس میں تین سو تیس (۳۳۰) بار یہ آیت آتی ہے۔بعینہٖ سورۃ الفاتحہ کا بھی اسی طرح کا ایک نقش ہے۔اس میں بھی فاتحہ کے اعداد اسی قدر ہوتے ہیں۔شیخ محمد نازلی رحمہ اللہ نے اس کو لکھا ہے۔[2] [1] خزینۃ الأسرار (ص: ۱۳۸) [2] خزینۃ الأسرار (ص: ۱۵۱) اس طرح کے نقشوں سے احتراز کرنا چاہیے،سنت سے ان کا ثبوت نہیں اور اس سے بہت سے مفاسد کے دروازے نکلتے ہیں۔[مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ ]